Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / الیکشن کمیشن پر بی جے پی کا دباؤ

الیکشن کمیشن پر بی جے پی کا دباؤ

غضنفر علی خان

الیکشن کمیشن ملک بھر میں پرامن اور آزادانہ انتخابات کرانے والا ایک دستوری ادارہ ہے جو دستوری ادارہ ہونے کے ناطہ سے کسی حکومت کا زیر اثر نہیں ہوتا۔ ہمارے قومی الیکشن کمیشن نے اپنے قیام کے بعد سے آج تک اپنے فرائض منصبی بڑی خوبی سے نبھائے ہیں، کسی بھی انتخابات میں جو 70سالہ جمہوری نظام کے تحت ہوئے ہیں الیکشن کمیشن نے کبھی کوئی سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا، منصفانہ چناؤ کرنے کے وہ سارے اقدامات کئے جو کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن پہلی بار یہ احساس ہوا کہ الیکشن کمیشن پر بھی دباؤ میں آسکتا ہے یا لایا جاسکتا ہے۔ 2019ء کے مجوزہ انتخابات قریب آرہے ہیں، کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کی اسمبلیاں اپنی میعاد پوری کررہی ہیں اور جہاں 2019 تک اسمبلی انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ ان ریاستوں میں ایک ریاست گجرات ہے جہاں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں۔ لیکن چونکہ بی جے پی کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ سارے ملک میں قومی سطح پر مرکز کی مودی حکومت نے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا اور خاص طور پر گجرات میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے انتہائی مضرت رساں اثرات ہوئے ہیں۔ گجرات میں زیادہ تر تجارت پیشہ لوگ رہتے ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کی وجہ سے تاجر طبقہ سارے ملک کی طرح گجرات میں بھی بے حد متاثر ہوا ہے۔ کپڑے کی صنعت ، ہیرا تراشنے کی انڈسٹری اور دیگر چھوٹی چھوٹی صنعتوں کی گجرات میں کمر ٹوٹ گئی ہے۔ پٹیل برادری اور گجرات کا متوسط طبقہ، یہاں کے کسان اور عام آدمی سخت پریشان ہے۔ یہ سب کچھ مودی حکومت کے غلط اور ناعاقبت اندیش فیصلوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان تمام اُمور کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی کی مرکزی حکومت اور گجرات کی ریاستی حکومت نے بھی اپنی ریاست میں انتخابات سے قبل کچھ نئی اسکیمات کا اعلان کرنے اور عوامی رائے کو بی جے پی کی طرف راغب کرنے کے لئے وقت چاہا۔ الیکشن کمیشن ہماچل پردیش کی طرح گجرات میں بھی ماہ نومبر 2017 تک اسمبلی چناؤ رکھنا چاہتا تھا لیکن جیسا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں کہہ رہی ہیں کہ گجرات کے حالات حکمران پارٹی کے سازگار نہیں ہیں اس لئے عوام کی خوشنودی حاصل کرنے یا ان کو ایک اور بار ہتھیلی میں جنت دکھانے کیلئے نئے وعدے اور نئی اسکیمات کا اعلان کرنے کے بعد ماہ اکٹوبر میں الیکشن کمیشن کو یہ اعلان کرنے سے روکا گیا کہ ماہ نومبر 2019 ء ہی میں گجرات کے اسمبلی انتخابات ہوں گے، یہ اس لئے کیا گیا کہ اگر ماہ اکٹوبر ہی میں اسمبلی چناؤ کا اعلان ہوجاتا تو پھر الیکشن کا ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہوجاتا جس کے تحت کسی بھی علاقہ، کسی بھی ریاست میں فلاحی اسکیمات کا اعلان نہیں کیا جاسکتا، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے مبینہ طور پر مودی جکومت نے گجرات چناؤ کے انعقاد میں دیر کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اورالیکشن کمیشن نے اسی دباؤ کے تحت اسمبلی الیکشن کرانے میں تاخیر کی ۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کمیشن نے برسراقتدار پارٹی کے دباؤ کو قبول کیا ہے لیکن ایک گجرات ہی کی بات نہیں ہے سارے ملک میں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں، ان کے نفاذ کے طریقوں، قومی سطح کے مسائل خاص طور پر معاشی مسائل کی یکسوئی میں ہوئی غلطیوں اور ناتجربہ کاری بی جے پی کے بارے میں عوام کی رائے بڑی حد تک تبدیل کردی ہے۔8نومبر 2016کو نوٹ بندی نافذ ہوئی تھی اب 8نومبر 2017 کو اس غلط فیصلہ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپوزیشن جماعتیں کل ہند سطح پر احتجاج کرنے والی ہیں۔ مرکز کے جن فیصلوں پر عوامی رائے بدل گئی ہے ان میں داخلی مسائل کا بھی بڑا دخل ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں عوام اور خصوصاً خواتین خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ اترپردیش کی حالت تو اتنی ابتر ہے کہ اگر وہاں کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کو ناکام ترین چیف منسٹر کا خطاب دیا جائے تو خود بی جے پی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اور اس معاملہ میں بلکہ یوگی کو چیف منسٹر یو پی بنانے میں صرف وزیر اعظم کا جو عمل دخل تھا ، جو بھی غلطیاں یوگی ادتیہ ناتھ کررہے ہیں وہ مسٹر نریندر مودی کے سر پر ہی ہوں گی۔ بہار میں جب سے وہاں کے چیف منسٹر نتیش کمار نے بی جے پی سے ہاتھ ملایا ہے لاء اینڈ آرڈر کی ابتر حالت، نظم و نسق کی حوصلہ شکن صورتحال کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ہریانہ میں آئے دن جرائم میں اضافہ ہورہاہے جہاں کے چیف منسٹر ٹھکر کسی بھی لحاظ سے موزوں نہیں کہلاسکتے ۔ یہی حال راجستھان کا بھی ہے۔خاتون چیف منسٹر وسندھرا میڈم آئے دن تنازعات میں گھری رہتی ہیں۔ غرض جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں عوام میں بہت اضطراب پایا جاتا ہے۔ مہنگائی، اشیاء کی پیداوار میں کمی، موسم کے لحاظ سے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، اسپتالوں میں معصوم بچوں کی اموات ، کالجوں اور یونیورسٹیز کے عملے میں بے چینی اور پھر کچھ دن بعد ایک تنازعہ نے طلباء برادری کا دم گھونٹ کر رکھ دیا ہے۔ بی جے پی کو یہ احساس ہورہا ہے کہ ایودھیا میں چیف منسٹر کا ایک دن پہلے دیوالی منانا، سرحد پر متعینہ فوجیوں کے ساتھ دیوالی کاتہوار مناکر وزیراعظم کیا پیام دینا چاہتے ہیں ۔ ملک کی مجموعی صورتحال تباہی کی جانب جارہی ہے۔ وزیراعظم لیپا تھوپی کے اقدامات سے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ گہرے اور رِستے ہوئے زخم جو ان کی حکومت نے ملک کے عوام کو دیئے ہیں مندمل ہوجائیں گے تو خود بی جے پی کیلئے حد درجہ تباہ کن ثابت ہوں گے۔ گجرات اسمبلی چناؤ میں کامیابی کی آخر اتنی سرپھوڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔ کسی وزیر اعظم نے ایک ماہ کے دوران اپنی آبائی ریاست کا 5 مرتبہ دوہ نہیں کیا جیسا کہ وزیراعظم نے کیا۔ کونسا خوف انہیں یا ان کی پارٹی کو لاحق ہوگیا ہے کہ رات دن گجرات ہی کی بات کی جارہی ہے۔ ایک گجرات ہی کے نہیں بلکہ سارے ملک میں بی جے پی کے بارے میں عوامی رائے آہستہ آہستہ بدل رہی ہے۔عوام کو یہ فکر ہے کہ اگر وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں تو پھر اس کے بجائے کس کو ووٹ دیں۔ ملک بھر میں کوئی سیاسی پارٹی قومی سطح پر عوام کو دکھائی نہیں دیتی اگر اس ’’ سیاسی خلاء ‘‘ کو قومی سطح کی پارٹی کی حیثیت سے کانگریس پارٹی نے پُر نہیں کیا تو یہ ملک اور اس کے سیکولرازم کیلئے سب سے بڑا سانحہ ثابت ہوگا۔ سیاسی موقع کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں اس لئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کانگریس کو دیر نہیں کرنی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT