Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / الیکشن کمیشن کی تجویز

الیکشن کمیشن کی تجویز

یہ بار بار جو لٹتا ہے کارواں یارو!
سبب یہی ہے جو رہبر ہے وہ لٹیرا ہے
الیکشن کمیشن کی تجویز
الیکشن کمیشن نے ملک میں بہ یک وقت انتخابات کروانے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں میں اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ وقت اور پیسے کی بچت کے لیے تمام ریاستوں میں یکساں رائے دہی کو یقینی بنانا ہر سیاسی پارٹی کا فرض بن جائے تو پھر ملک میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہوگی ۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دستوری اور قانون عوامی نمائندگان میں ترمیمات کو ضروری قرار دیا ہے کیونکہ کمیشن کو بہ یک وقت رائے دہی کے لیے انتظامات کرنے اور اس کے لیے اہل بنانے کی ضرورت ہوگی ۔ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بھی ملک میں انتخابات پر آنے والے مصارف اور سیاسی پارٹیوں کی تشہیری فضول خرچی کو کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات کرنے کی سفارش کی تھی ۔ لوک سبھا میں انتخابی مصارف پر ہوئی بحث میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر کے دوران جو باتیں زیر غور آئی ہیں ان کا مناسب طریقہ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ وابستہ تمام اچھے کردار اب صرف کتابوں میں یا ماضی کے اوراق میں دکھائی دیتے ہیں ۔ ملک کی قدیم سیاسی پارٹی کانگریس کے پاس بھی اچھے قائدین کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ انتخابات کو آسان اور کم خرچ والا بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو کامل اختیارات دینے کی ضرورت ہے ۔ مگر سیاسی پارٹیوں کو لوک سبھا یا اسمبلیوں میں اپنی طاقت آزمائی کے لیے مختلف طریقوں اور حربوں کو استعمال کرنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ اس ڈر اور خوف کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں بہ یک وقت رائے دہی کی تجویز پر متفق نہیں ہوں گی ۔ فی زمانہ ملک کی سیاست کا دور نازک ہے ۔ مرکزی سطح سے لے کر ریاستی سطحوں تک سیاسی حلقوں میں سوچ کا پیمانہ تبدیل ہوگیا ہے ۔ لوک سبھا یا اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر عوامی مسائل اٹھانے والے سیاستدانوں کو دیکھ کر یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ ملک و قوم کی کشتی کے ناخدا ہیں ۔ یہ لوگ عوام کی کشتی کو بچانے کے بجائے ان میں سے بیشتر کشتی کو منجدھار میں لاکر چھوڑ دینے والے ہوتے ہیں جیسا کہ مرکز کی حکومت کے فیصلے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور سوچھ بھارت ہیں ۔ ان فیصلوں نے عوام کی کشتی کو منجدھار میں لاکر چھوڑ دیا ہے ۔ اب حکومت ان فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کا عزم رکھتی بھی ہے تو اس کے پاس وسائل اتنے نہیں کہ اپنے فیصلوں کو عملی جامہ پہنا سکے ۔ مجبوراً کچھ فیصلے لیت و لعل میں ڈالدئیے جاتے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں بھی انتخابات کے موقع پر مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ 12 فیصد تحفظات دئیے جائیں گے ۔ لیکن یہ وعدہ پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس جذبہ حقیقی کا فقدان ہے اور مسلمانوں کی کشتی کو منجدھار میں چھوڑ دیا گیا ۔ یہ دراصل وہی سیاستداں ہیں جو اپنی بنجر سیاسی زمین کو زرخیز کرنے کے لیے دعوے کئے تھے اب ان کی بنجر سیاسی زمین زر خیز ہوچکی ہے تو وہ لب کشائی کے ایسے عادی ہوچکے ہیں کہ ان کے بیانات سے افسوس ہوتا ہے ۔ الیکشن کمیشن ایسے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں جائزہ لیتا ہے تو پھر اسے انتخابی حکمت عملی اور انتخابات کے عمل کے دوران سیاستدانوں کی نیت کو پرکھنے کا بھی موقع ملے گا ۔ ہمارے ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے میں الیکشن کمیشن کا رول اہم رہا ہے ۔ اس ادارہ کو مزید اختیارات دئیے جائیں تو انتخابات کے موقع پر جھوٹے وعدے کرنے والے سیاستدانوں کی نوٹس لی جاسکتی ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کے منشور اور سیاستدانوں کے وعدوں سے نکلنے والی معاشی اور سیاسی نا انصافی سے تلخی اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو اکثر ناراضگیوں کا رخ اختیار کرلیتی ہے ۔ ان سیاستدانوں کے بارے میں غور و خوص کرنے کا الیکشن کمیشن کو اختیار دیا جاناچاہئے ۔ ورنہ یہ سیاستدان عوام سے کئے گئے وعدوں کو صرف وعدہ بناکر رکھنے کے عادی ہوجائیں گے ۔ لوگوں کو جھوٹے وعدوں سے ٹھگ لینے کے رجحان کا بھی تدارک کرنا ہوگا ۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے اکثر عوام کو مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ ملک میں بہ یک وقت انتخابات کرانے کا سوال ہے ۔ سیاستدانوں کی صفوں کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے ایسا کرناضروری ہے ۔ ایک علاقہ میں جب انتخابی ناکامی ہوتی ہے تو دوسرے علاقہ میں اس ناکام پارٹی کے قائدین میں مایوسی پیدا ہوتی ہے جس سے عوامی کارکردگی کا جذبہ فرو ہوتا جاتا ہے اور خرابیاں جنم لیتی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی اس تجویز کا جائزہ لینا تمام سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT