Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کا الزام

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کا الزام

کانگریس قائدین کی اسٹیٹ الیکشن کمیشن میں شکایت
حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : کانگریس کے قائدین نے کمشنر تلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے ملاقات کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ۔ وزراء الیکشن عملہ اور پولیس کے رول پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے ایک یادداشت پیش کی اور آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد کرانے میں الیکشن کمیشن ناکام ہوجانے کا دعویٰ کیا ۔ کانگریس کے سینئیر قائدین مسٹر ایم ششی دھر ریڈی ، مسز سبیتا اندرا ریڈی ، مسز رینوکا چودھری ، مسٹر نندی ایلیا ، مسٹر انجن کمار یادو ، مسٹر جی نرنجن اور مسٹر ایس محمد واجد حسین نے آج کمشنر اسٹیٹ الیکشن کمیشن تلنگانہ سے ملاقات کی ۔ تحریری یادداشت پیش کرنے کے علاوہ سوشیل میڈیا میں ہلچل مچانے والی دو میڈیا کلپس سے واقف کرایا ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی نشاندہی کی جس سے حکمران جماعت ٹی آر ایس کے امیدواروں کو فائدہ پہونچا ہے ۔ کانگریس پارٹی کے امیدوار جامباغ ڈیویژن وکرم گوڑ کو ان کے اپنے بوتھ میں صرف 9 ووٹ حاصل ہوئے ہیں ۔ جب کہ ان کے 10 ارکان خاندان نے انہیں ووٹ دیا ہے ۔ اس طرح اس بوتھ میں ان کے رشتہ داروں کے 200 ووٹس ہیں جو وکرم گوڑ کے حق میں استعمال کئے گئے ہیں ۔ اس طرح الیکشن کمیشن کو کئی جماعتوں کے امیدواروں کے علاوہ آزاد امیدواروں نے بھی ان کے اپنے ووٹ انہیں نہ ملنے کی شکایت کی ہے ۔ ووٹوں کی گنتی کے بعد سے کل تک بھی ای وی ایم کو کوٹلہ وجئے بھاسکر ریڈی اسٹیڈیم کے اسٹوریج روم کو منتقل نہیں کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں جب استفسار کیا گیا تو متعلقہ عہدیداروں سے تشفی بخش جواب نہیں ملا ۔ ریاستی وزیر آئی ٹی پنچایت راج و بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے تمام سیاسی پنڈتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے حکمران جماعت ٹی آر ایس کو 100 نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی اور ٹی آر ایس کو 99 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی رائے دہی سے پہلے 100 نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کا کے ٹی آر کو کیسے علم ہوچکا تھا ۔ کے ٹی آر آئی ٹی وزارت کا قلمدان بھی اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے ۔ تب ہی کے ٹی آر کی پیش قیاسی درست ہوئی ہے ۔ کئی بلدی ڈیویژنس کے نتائج سروے رپورٹس کے بالکل برعکس پائے گئے ہیں ۔ چند ہزار ووٹوں پر مشتمل رہنے والے بلدی ڈیویژنس میں ٹی آر ایس کے امیدواروں نے ہزاروں ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے تو جی ایچ ایم سی کے انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کرانے کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT