Thursday , May 24 2018
Home / شہر کی خبریں / الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیت گئی !

الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیت گئی !

ہاردک پٹیل اور کانگریس کو ابھی بھی شبہات
حیدرآباد۔ 19ڈسمبر(سیاست نیوز) گجرات انتخابات کے دوران الکٹرانک ووٹنگ مشین میں دھاندلیاں کی گئی تھیں ! الکٹرانک ووٹنگ مشین میں دھاندلیوں کے متعلق 2009 سے سیاسی جماعتوں کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں لیکن اس کے باوجود ان مشینوں کے سلسلہ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کا یہ ادعا ہے کہ ووٹنگ مشین میں کسی قسم کی دھاندلی کی گنجائش نہیں ہے لیکن شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک سافٹ وئیر انجنیئر نے الکٹرانک ووٹنگ مشین میں دھاندلی کی گنجائش کو ثابت کرنے کی کوشش کی جس پر انہیں الکٹرانک ووٹنگ مشین کی چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ 2009 عام انتخابات کے بعد تلگودیشم پارٹی اور اے آئی اے ڈی ایم کے نے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلیوں کا مسئلہ چھیڑتے ہوئے اپنی پارٹی کے سالانہ اجلاس میں انتخابات بیالٹ پیپر پر کروانے کیلئے قرار داد منظور کی تھی اس کے بعد بھی کئی مرتبہ انتخابات کے ساتھ ہی الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور ان میں دھاندلیوں کی شکایات منظر عام پر آئیں لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ ہر بار اس مسئلہ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مسترد کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ ایسا کرنا ناممکن ہے ۔ گجرات انتخابات کے پہلے مرحلہ کے ساتھ ہی کانگریس اور گجرات میں تحفظات تحریک چلانے والے قائدین کی جانب سے الکٹرانک ووٹنگ مشینو ںمیں دھاندلیوں کا الزام عائد کر رہے تھے۔ پاٹی دار تحریک کے قائد ہاردک پٹیل نے گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو ووٹنگ مشینوں کی کی کامیابی قرار دیا ہے اسی طرح گجرات کے کئی سیاسی قائدین کو یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ کامیابی ہضم نہیں ہو رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ انتخابی عمل کے دورا کوئی تو ایسی بات رہی ہے جس کے سبب کانگریس اور پٹیل تحفظات تحریک کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ہاردک پٹیل کی جانب سے الکٹرانک ووٹنگ مشین میں دھاندلیوں کو کانگریس کی جانب سے بھی کھل کر مسترد نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی یہ کہا جا رہاہے کہ مشینوں میں دھاندلی کے امکانات نہیں ہیں بلکہ کانگریس نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے گجرات کے تمام مراکز رائے دہی میں استعمال کئے جانے والے ووٹوں میں 20فیصد وی وی پی اے ٹی کی رائے شماری کو ممکن بنانے کے احکامات جاری کرنے کی درخواست دی تھی جسے مسترد کردیا گیا ۔ الکٹرانک ووٹنگ مشینو ںمیں اگر دھاندلیوں کی گنجائش موجود ہے تو ایسی صورت میں انتخابات کا عمل بے معنی ہوکر رہ جائے گا اور عوام کو انتخابی عمل پر سے اعتماد ختم ہونے لگے گا۔ پٹیل تحفظات تحریک کے علاوہ دیگر اپوزیشن قائدین کا کہناہے کہ ریاست گجرات میں جو عوامی ماحول تھا اس ماحول کے دوران اس طرح کے نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی اسی لئے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی پر شبہات لازمی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT