Wednesday , February 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / امام انواراﷲ فاروقیؒ انور ؔ کی ادبی خدمات

امام انواراﷲ فاروقیؒ انور ؔ کی ادبی خدمات

عارف باﷲ امام اہلسنت حافظ محمد انوارﷲ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ و الرضوان مؤسس جامعہ نظامیہ کا شمار ایسی ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے علم و فضل سے جنوبی ہند کے علاقہ کو تاریخ عالم میں جاوداں بنادیا۔ آپ مفسر و محدث ، فقیہ ومتکلم ، فلسفی ، مصلح و مجدد ، واعظ و خطیب ، مناظر اور منطقی یعنی مختلف کمالات کا مجموعہ ہے ۔ آپؒ کا محض نام ہی انواراللہ نہیں ، انوار الٰہی سے آپؒ کا ظاہر و باطن روشن تھا۔ اُسی نور کی کرنوں کے سبب آج جامعہ نظامیہ منبع انوار ہے ۔ حضرت بانی جامعہ نظامیہؒ کے قلم رمز شناس سے جب علوم و معارف کے بیشمار سوتے پھوٹ پڑے تو دنیائے علم کے بڑے بڑے صاحبان فضل و کمال نے آپ کو مجمع البحرین تسلیم کرلیا۔ آپؒ کے علمی و قلمی احسانات کو دنیائے علم و دانش کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ آپؒ نے اپنی ساری صلاحیتیں رضائے خدا ورسولؐ کے حصول کی خاطر وقف کردی تھیں۔ استاد سلاطین دکن کی حیثیت سے آپؒ نے اردو کی ترقی و ترویج میں اہم کردار ادا کیا ۔ نامور محقق و نقاد ڈاکٹر سید محی الدین قادری زورؔ حضرت شیخ الاسلام کے متعلق اپنی کتاب ’’داستان ادب حیدرآباد ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ یہ قندھار کے قاضی تھے اور علوم اسلام کے ماہر پچاس سے زیادہ کتابیں مختلف موضوعات پر لکھیں اور چھپائیں، اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے ۔ انورؔ تخلص کرتے تھے ۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’شمیم الانوار‘‘ چھپ چکا ہے اور دوسرے مجموعہ کاقلمی نسخہ ادارہ ادبیات اُردو حیدرآباد میں محفوظ ہے ۔ ان کی تصنیفات میں انوار احمدی ، مقاصد الاسلام (۱۱ جلدیں) ، حقیقۃ الفقہ اول ، دوم وغیرہ مشہور ہیں‘‘۔ نظم کے ساتھ ساتھ نثری ترقی میں جن انشاء پردازوں نے نمایاں خدمات انجام دیں ان میں حیدرآباد کے چند بلند پایہ انشاء پرداز جنھوں نے ہرموضوع پر قلم اٹھایا ہے اُن میں نواب عزیز جنگ ولاؔ ، حضرت فضیلت جنگ بہادر انواراﷲ خاں انورؔ (بانی جامعہ نظامیہ) ، عبدالجبار خاں آصفی و دیگر مشہور ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT