Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / امام و خطیب مکہ مسجد کی تنخواہ بہت ہی کم

امام و خطیب مکہ مسجد کی تنخواہ بہت ہی کم

سپرنٹنڈنٹ کو 20 ہزار روپئے ادا کئے جارہے ہیں محکمہ اقلیتی بہبود کو امام سے زیادہ سپرنٹنڈنٹ کی اہمیت

سپرنٹنڈنٹ کو 20 ہزار روپئے ادا کئے جارہے ہیں
محکمہ اقلیتی بہبود کو امام سے زیادہ سپرنٹنڈنٹ کی اہمیت
حیدرآباد۔/28نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے امام مکہ مسجد اور سپرنٹنڈنٹ کی خدمات میں ایک سال کی توسیع کی ہے تاہم تنخواہ کے مسئلہ پر امام کے ساتھ ناانصافی کا رویہ اختیار کیا گیا۔ حافظ و قاری محمد رضوان قریشی جو گزشتہ کئی برسوں سے مکہ مسجد کے امام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں وہ نہ صرف امام بلکہ جمعہ کے موقع پر خطیب کے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں لیکن افسوس کہ اس قدر اہم ذمہ داری کے باوجود حکومت نے انہیں صرف 11500 روپئے تنخواہ مقرر کی ہے جبکہ سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ عہدیدار کو ماہانہ 20ہزار روپئے مقرر کئے گئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس امام سے زیادہ سپرنٹنڈنٹ کی اہمیت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض عہدیداروں کی سفارش اور خوشنودی کے سبب سپرنٹنڈنٹ کو 20ہزار روپئے ماہانہ مشاہیرہ مقرر کیا گیا ۔ ایک ریٹائرڈ ڈی ایم ڈبلیو آفیسر کو اس قدر زائد مشاہرہ پر مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عہدیداروں کو چاہیئے تھا کہ وہ امام اور خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مولانا حافظ و قاری رضوان قریشی کے مشاہرہ میں بھی اضافہ کرتے۔ مولانا حافظ و قاری عبداللہ قریشی الازہری خطیب مکہ مسجد کی علالت کے بعد سے قاری رضوان قریشی دونوں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عیدین کے موقع پر عیدگاہ میں امامت اور خطبہ کی ذمہ داری بھی وہ بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ مصلیان مکہ مسجد اور عام مسلمانوں کا تاثر ہے کہ حکومت کو امام مکہ مسجد کی تنخواہ کو بھی سپرنٹنڈنٹ کے برابر 20ہزار کرنی چاہیئے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم نے جی او آر ٹی 48 کے ذریعہ حافظ و قاری محمد رضوا قریشی کی میعاد میں 19 اگسٹ 2015تک توسیع کی ہے۔ اسی طرح جی او آر ٹی 49کے ذریعہ خواجہ نعیم الدین کو سرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر 19 اکٹوبر 2015تک توسیع دی گئی اور ماہانہ مشاہرہ 20ہزار روپے مقرر کیا گیا۔ سابق میں ان کا مشاہرہ 11500روپئے تھا جس پر انہوں نے تین سال تک خدمات انجام دیں۔ تاہم ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے خواجہ نعیم الدین کو ماہانہ 20ہزار روپئے مشاہرہ پر ایک سال کی توسیع کی سفارش کی۔ جی او میں اگرچہ سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت س فرائض انجام دینے کی ہدایت دی گئی لیکن وہ ڈی ایم ڈبلیو آفس حج ہاوز میں زیادہ تر دفتری اُمور کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود سپرنٹنڈنٹ کی طرح امام مکہ مسجد کے مشاہرہ میں اضافہ کی سفارش کرتے جو سپرنٹنڈنٹ سے زیادہ مشاہرہ میں اضافہ کے مستحق ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ جو ریٹائرڈ ڈی ایم ڈبلیو ہیں انہیں کے مشاہرہ کے علاوہ وظیفہ کے طور پر خاطر خواہ رقم حاصل ہوتی ہے۔ اس
اعتبار سے امام مکہ مسجد جن کا انحصار صرف تنخواہ پر ہے اس میں اضافہ کی زیادہ ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT