Friday , September 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / امان خان : حیدرآباد سے ٹینس میں اُبھرتا نام، حوصلہ افزائی ضروری

امان خان : حیدرآباد سے ٹینس میں اُبھرتا نام، حوصلہ افزائی ضروری

آج کے سخت مسابقتی دور میں اگر نئی نسل کے ہونہار، باصلاحیت اور پُرجوش لڑکوں کو 13 سال سے 19 سال تک کی عمر میں فیملی ، سوسائٹی ، خانگی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے مناسب پذیرائی، ضروری حوصلہ افزائی اور درکار تعاون و مدد حاصل ہوجائے تو انھیں مستقبل کے درخشاں ستارے اور قابل فخر سپوت بننے سے کوئی نہیں روک سکتاہے۔ اور اگر اچھے ٹیلنٹ کو فیم

آج کے سخت مسابقتی دور میں اگر نئی نسل کے ہونہار، باصلاحیت اور پُرجوش لڑکوں کو 13 سال سے 19 سال تک کی عمر میں فیملی ، سوسائٹی ، خانگی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے مناسب پذیرائی، ضروری حوصلہ افزائی اور درکار تعاون و مدد حاصل ہوجائے تو انھیں مستقبل کے درخشاں ستارے اور قابل فخر سپوت بننے سے کوئی نہیں روک سکتاہے۔ اور اگر اچھے ٹیلنٹ کو فیملی سے لے کر حکومتوں تک کوئی بھی گوشہ اپنی لاپرواہی سے ضائع کردے تو وقت گزر جانے کے بعد ہمارے پاس افسوس کرتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا!
امان ایوب خان … شہر حیدرآباد سے گزشتہ دو، تین سال کے دوران ٹینس کے اُفق پر تیزی سے اُبھرنے والا وہ نام ہے، جس نے مختصر عرصے میں آل انڈیا ٹینس اسوسی ایشن (ایٹا) اور ایشین ٹینس فیڈریشن (اے ٹی ایف) کے جونیر لیول میں دھوم مچائی ہے۔ چنانچہ 14 سالہ امان کو باوقار نیشنلس کیلئے منتخب کرلیا گیا، جو آئندہ ہفتے ممبئی میں شروع ہورہے ہیں۔ یہ 64 کھلاڑیوں کی مسابقت ہے جو ’بسٹ آف تھری‘ مقابلے کی اساس پر ہوگی۔ امان کے ٹریک ریکارڈ کے پیش نظر ایک اور اچھے نتیجے کی پوری امید رکھی جاسکتی ہے۔
ماسٹر امان ولد ایوب خان نے ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خان سے گزشتہ روز دفتر ’سیاست‘ پر ملاقات کی اور اپنے معتبر صلاح کار اَنکل (ماموں) محمد ضمیر الدین ساجد، کوچ سید کلیم احمد و دیگر بہی خواہوں کے ساتھ مل کر جناب ایڈیٹر صاحب کو واقف کرایا کہ آج کل ٹیلنٹیڈ ہونے کے باوجود کسی لڑکے کو اپنے پسندیدہ شعبے میں آگے بڑھنے میں کس طرح معاشی رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہیں۔ اس موقع پر امان نے ’سیاست‘ سے بات چیت کے دوران اپنی پڑھائی سے لے کر منتخبہ کھیل لان ٹینس (المعروف ’ٹینس‘) میں اپنی تاحال عمدہ کارگزاری اور مستقبل کے عزائم سے واقف کرایا۔
امان نے بطور ٹینس کھلاڑی اپنے ابتدائی دَور میں نومبر 2012ء میں ٹی ایس اے اوپن ٹینس ٹورنمنٹ کے اَنڈر 12 اور انڈر 14 دونوں خطابات جیتے۔ ماضی قریب کو دیکھیں تو امان نے بنگلورو میں منعقدہ جین گلوبل ایشین رینکنگ ٹینس ٹورنمنٹ اور حیدرآباد میں منعقدہ فینکس لائیو ایشین جونیرز ٹینس ٹورنمنٹ میں قابل قدر مقام حاصل کیا جبکہ سال 2012 ، 2013 اور 2014ء میں انھوں نے ہندوستان کے مختلف مقامات پر انڈر 12، انڈر 14 ، انڈر 16 اور انڈر 18 زمرے کے اے آئی ٹی اے رینکنگ ٹورنمنٹس میں کئی ٹائٹل جیتے یا قابل لحاظ پوزیشن کے ساتھ اختتام کیا۔ وہ 2014ء میں انڈر 14 کے تحت سوریہ ٹینس اکیڈیمی، رَما ٹینس اکیڈیمی کے مقابلوں میں سنگلز ونر، ایمانیول ٹینس سنٹر کے ایونٹ میں سنگلز رنراپ، ڈاکٹر رمیش میموریل کے ٹورنمنٹ میں ڈبلز ونر رہے۔ اسی سال امان نے انڈر 16 کیٹگری میں این وی کے ٹینس اکیڈیمی، وسشٹھ اوپن ٹینس ٹورنمنٹ اور رما ٹینس اکیڈیمی کے ایونٹس میں سنگلز اور ڈبلز سیکشن میں عمدہ کھیلا اور ٹائٹل بھی جیتا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ امان نے اپنی عمر کے 14 ویں سال کے دوران انڈر 18 کے تحت بھی مسابقت کی اور دو ایونٹس میں کوارٹرفائنلس تک پہنچے۔ حیدرآباد کی شہرہ آفاق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے بھی امان خان کے کھیل کی پذیرائی کرتے ہوئے انھیں ترغیبی انعام دیا ہے!
کوئی لڑکا اپنی عمر کے ایسے حصے میں جبکہ وہ اسکول کا اسٹوڈنٹ ہوتا ہے، جب کھیل میں زیادہ دلچسپی لینے لگے تو عام طور پر والدین اور سرپرستوں کو فکر ہونے لگتی ہے کہ لڑکا کہیں پڑھائی میں پیچھے نہ ہوجائے۔ اس حقیقت پر نظر نہیں جاتی کہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوجانا ہی کامیاب شخص بننے کی ضمانت نہیں۔ دنیا میں اعلیٰ تعلیم کے علاوہ اور بھی بے شمار اچھے شعبے ہیں جن میں حقیقی باصلاحیت بچوں کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ’اَذان انٹرنیشنل اسکول‘ کے سابقہ اور’ شیواجی ودیا پریتھ ہائی اسکول، جوبلی ہلز‘ کے موجودہ اسٹوڈنٹ امان خان جو سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے دسویں جماعت کے امتحانات سے حال ہی میں فارغ ہوگئے، انھیں اپنے ٹینس عزائم کی تکمیل اور بالخصوص بیرون شہر سفر کے مواقع پر اسکول کی طرف سے تعاون حاصل ہورہا ہے۔
سخت محنت ، اچھی عادتوں اور ڈسپلن کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں ہوتی۔ چنانچہ کم عمر اَمان کی صبح فزیکل فٹنس کیلئے (5-30 بجے سے ایک گھنٹہ) سنجیویا پارک، ٹینک بنڈ میں محمد معظم (سابق جونیر انڈیا فٹبال پلیئر) کی نگرانی میں گزرتی ہے۔ پھر اسکول کے بعد لگ بھگ سہ پہر سے شام تک ٹینس کوچنگ کا وقت رہتا ہے۔ ’آؤٹ ڈور اسپورٹ‘ کیلئے دَم خم بنائے رکھنا بہت اہم ہوتا ہے۔ اسی لئے اَمان نے اپنی غذا پر بھی خاص توجہ دے رکھی ہے۔ جہاں ’نان ویجٹیرین فوڈ‘ بھی اُن کی غذا کا حصہ ہے، وہیں انھوں نے فروٹس اور انرجی ڈرنکس کو بھی اپنی ڈائٹ میں شامل رکھا ہے۔
متوسط گھرانے کے امان خان کیلئے یہاں تک کا سفر خوب رہا اور وہ آئندہ ہفتے ممبئی میں نیشنلس جیت کر انڈیا لیول پر نمبر ایک مقام اور پھر آگے چل کر بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے کا عزم رکھتے ہیں، جس کیلئے انھیں بیرون ملک ٹریننگ حاصل کرنا بھی پڑسکتا ہے ۔ تاہم مادی وسائل کے بغیر یہ منزل پانا ممکن نہیں۔ اور امان جیسے ہونہار لڑکوں کی اسپانسرشپ کیلئے خانگی اداروں و سرکاری شعبے کو پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔ اگر ہمیں مستقبل میں کسی شعبے میں نامور شخصیت کو دیکھنا ہو تو اس کیلئے کچھ توجہ آج ہی دینا پڑے گا، جس طرح پہلی مسلم کمرشل پائلٹ سلویٰ فاطمہ، انڈین ویمنس ٹینس کی اسٹار ثانیہ مرزا، ہندوستان کی بہترین سنگلز شٹلر سائنا نہوال کے اسپانسرز کو اپنی کاوشوں پر آج فخر ہورہا ہے اور ٹیبل ٹینس کی اُبھرتی حیدرآبادی نائنا جیسوال جیسے کم عمر اسٹارز کو بھی اب مختلف گوشوں کی جانب سے پروان چڑھایا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT