Monday , July 23 2018
Home / شہر کی خبریں / امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کی اردو دشمنی ، اردو میڈیم طلباء نصابی کتب سے محروم

امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کی اردو دشمنی ، اردو میڈیم طلباء نصابی کتب سے محروم

حکومت کی ہدایت کے باوجود لاپرواہی کا ثبوت ، آئندہ ماہ سمسٹر امتحانات مقرر
ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود کو شکایتوں کی وصولی ، وائس چانسلر سے بات کرنے کا تیقن
حیدرآباد۔12۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اردو کو ریاست بھر میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا لیکن حکومت کا یہ اعلان محض زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔ سرکاری محکمہ جات میں اردو کا استعمال ابھی شروع نہیں ہوا تو دوسری طرف تعلیمی اداروں میں اردو کی سہولتوں میں اضافہ کے بجائے کمی دیکھی جارہی ہے ۔ کسی بھی زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اُس زبان میں تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ بنیادی سطح سے اردو میڈیم تعلیم کا سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس انتظام نہیں۔ حکومت کے اردو میڈیم مدارس یکے بعد دیگرے ختم ہورہے ہیں۔ کچھ یہی حال اردو میڈیم اعلیٰ تعلیم کا ہے۔ حکومت کی ہدایت کے باوجود ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کی اردو دشمنی کا رویہ برقرار ہے۔ گزشتہ سال یونیورسٹی نے اردو میڈیم گریجویشن کورس کو اچانک ختم کردیا تھا۔ روزنامہ سیاست کی توجہ دہانی پر حکومت نے فوری مداخلت کرتے ہوئے یونیورسٹی کو اردو میڈیم گریجویشن برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ یونیورسٹی نے اردو میں نصابی کتب کی عدم دستیابی کا بہانہ بنایا تھا۔ اردو داں طبقہ کے احتجاج اور حکومت کی مداخلت کے بعد اردو میڈیم میں داخلے دیئے گئے اور اردو میڈیم گریجویشن سال اول کے امتحانات آئندہ ماہ مارچ میں منعقد ہوں گے لیکن افسوس کہ ابھی تک طلبہ کو اردو میں نصابی کتب فراہم نہیں کئے گئے۔ لہذا طلبہ کو تعلیم کے بغیر ہی امتحان لکھنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ اردو میں میٹریل کی عدم دستیابی اور کلاسس کے عدم انعقاد کا اثر نتائج پر ضرور پڑے گا۔ یونیورسٹی حکام نے اردو نصابی کتب کی تیاری کیلئے اردو یونیورسٹی سے معاہدہ کیا تھا لیکن آج تک ترجمہ کا کام مکمل نہیں ہوا جس سے گریجویشن طلبہ کا مستقبل خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو میڈیم کے امیدواروں کیلئے کلاسس کا اہتمام کیا گیا لیکن اردو میڈیم طلبہ کے لیے کلاسیس کی کسی بھی اسٹیڈی سنٹر پر اجازت نہیں دی گئی جس کے باعث اردو میڈیم کے طلبہ کونسلنگ کلاسیس سے محروم رہ گئے ۔ ماضی میں یونیورسٹی میں اردو میڈیم کوآرڈینیٹر کا عہدہ تھا ۔ لیکن حکام کو اس عہدہ پر تقرر کی کوئی فکر نہیں۔ یونیورسٹی کو جو اردو میڈیم سے کوئی دلچسپی نہیں تو پھر اس عہدہ پر تقرر سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ اردو میڈیم طلبہ نے نصابی کتب کے بغیر تعلیمی سال گزار دیا اور اب انہیں 19 مارچ سے ڈگری فرسٹ ایر فرسٹ سمسٹر کے امتحانات کا سامنا ہے ۔ طلبہ بغیر تیاری کے امتحان میں شرکت کریں گے اور انہیں کامیابی نہ ملے تو اس کیلئے یونیورسٹی حکام ذمہ دار رہیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ یونیورسٹی نے اپنی ویب سائیٹ پر اردو میڈیم کا آپشن ابھی تک شامل نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف تعلیمی سال 2018 ء کے لئے داخلوں کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق 28 فروری تک امیدوار رجسٹریشن کراسکتے ہیں جبکہ اہلیتی امتحان 11 مارچ کو ہوگا۔ جاریہ سال کے طلبہ کیلئے اردو میڈیم کتابیں دستیاب نہیں ہوسکیں ، لہذا اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ 2018 ء کے امیدواروں کے لئے نصابی کتب تیار ہوجائیں گی۔ اسی دوران مختلف اردو تنظیموں اور یونیورسٹی کے طلبہ نے اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے نمائندگی کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ وہ اس مسئلہ پر وائس چانسلر اوپن یونیورسٹی سے بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تمام یونیورسٹیز میں اردو میڈیم طلبہ کیلئے نصابی کتب کی تیاری کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اردو کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا اور بنیادی تعلیم کے علاوہ گریجویشن تک اردو میڈیم کی برقراری کو یقینی بنایا جائے گا ۔ محمود علی نے کہا کہ حکومت نے پیشہ ورانہ کورسس میں داخلوں کے انٹرنس امتحانات اردو میں منعقد کرنے کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کو ہدایت دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT