Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم گریجویشن کی سہولت بحال کرنے اقدامات

امبیڈکر یونیورسٹی میں اردو میڈیم گریجویشن کی سہولت بحال کرنے اقدامات

یونیورسٹی حکام سے وضاحت طلب کی جائے گی ، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا بیان
حیدرآباد ۔ 18۔ جولائی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم گریجویشن کی سہولت بحال کرنے کیلئے حکومت اقدامات کرے گی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاریہ سال اردو میڈیم کی سہولت برخواست کرنے کے خلاف مختلف تنظیموں نے ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی کی۔ محمد محمود علی نے اس فیصلہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں اردو زبان کی ترقی و ترویج کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر خود اردو داں ہیں اور انہوں نے اردو کو اس کا جائز مقام لینے کا ایک سے زائد مرتبہ لینے کا اعلان کیا ۔ پارٹی کے انتخابی منشور میں ریاست بھر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ حکومت اردو میڈیم اسکولس کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے ، امبیڈکر یونیورسٹی کی جانب سے اردو میڈیم کی سہولت کو ختم کرنا افسوسناک ہے۔ محمود علی نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری سے بات چیت کریں گے اور اردو میڈیم کی بحالی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی حکام سے وضاحت طلب کی جائے گی کہ آخر کن وجوہات کے سبب یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم میں اوپن یونیورسٹی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی سہولت کے باعث ہزاروں طلبہ کو حصول تعلیم کی سہولت حاصل تھی۔ ایسے افراد جو ملازمت کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، ان کیلئے اوپن یونیورسٹی کسی نعمت سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگلش اور تلگو میڈیم کے ساتھ اردو میڈیم کی برقراری سہ لسانی فارمولہ کے عین مطابق ہے۔ محمد محمود علی نے اردو تنظیموں کے ذمہ داروں کو یقین دلایا کہ ٹی آر ایس حکومت اردو کے ساتھ مکمل انصاف کرے گی اور اردو داں امیدواروں کو اپنی مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی تمام تر سہولتیں فراہم کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امبیڈکر یونیورسٹی اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے گی اور اردو میں نصابی کتب کی تیاری کیلئے اردو اکیڈیمی کی خدمات حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اردو میں نصابی کتب کی تیاری کیلئے یونیورسٹی سے مکمل تعاون کیلئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی حکام نے حکومت سے اجازت حاصل کئے بغیر اور کسی مدلل وجہ کے بغیر ہی جاریہ سال سے اردو میڈیم کی برخواستگی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی حکام کی اردو دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ ریاست بھر کے اردو داں طبقہ میں اس فیصلہ سے بے چینی پائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT