Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / امرناتھ یاتریوں پر حملہ

امرناتھ یاتریوں پر حملہ

احساسِ شام غم ہو محبت کو کس لئے
ایسے تو زندگی میںکئی غم گذر گئے
امرناتھ یاتریوں پر حملہ
وادی کشمیر کو بدامنی کا شکار بنائے رکھنے کی کوششوں میں مصروف طاقتوں نے ایسا معلوم ہوتا ہیکہ اب ہندوستان میں ا یک منظم طریقہ سے فرقہ پرستانہ فضاء کو ابتر بنانے کی مہم شروع کی ہے۔ امرناتھ یاترا کو محفوظ بنانے سیکوریٹی فورس کی تمام کو ششوں کے درمیان ان یاتریوں پر حملہ ہوتا ہے تو سیکوریٹی خامیوں اور مؤثر انتظامات میں کمی واضح ہے۔ حملہ کی ذمہ داری لشکرطیبہ کے سر تھوپی جارہی ہے جبکہ اس تنظیم کے ترجمان عبداللہ غزنوی نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور یاتریوں پر حملے کی مذمت کی۔ وادی کشمیر میں علحدگی پسندوں کی موجودگی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے سیاسی قائدین کیلئے یہ بیان غور طلب ہوگا کیونکہ ان علحدگی پسند اتحاد کے رہنما سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں امرناتھ یاتریوں پر حملہ کی مذمت کی اور اسے ایک قتل عام قرار دیا۔ دہشت گردی کا یہ ایک بدترین جرم ہے۔ یاتریوں کی جان لینے کی کوششوں کے درمیان ایک گجراتی مسلم بس ڈرائیور سلیم نے دہشت گردوں کی فائرنگ کے باوجود اپنی بس کو محفوظ مقام تک لے جاکر یاتریوں کی جان بچائی۔ گجرات کے اس شہری کی حکومت گجرات اور چیف منسٹر وجئے روپانی نے ستائش کی ہے۔ اس شخص کو بہادر ایوارڈ کیلئے بھی منتخب کیا گیا۔ ہر حملے کو فرقہ وارانہ زاویہ سے دیکھنے یا دکھانے کی کوشش کرنے والوں کیلئے یہ امرناتھ یاترا فائرنگ حملہ بھی فرقہ وارانہ نوعیت کا ہی ہو گا مگر گجرات کے مسلم ڈرائیور کی بہادری اور بروقت مسافروں کی جان بچانے کی دلیری نے فرقہ پرستوں کی بولتی بند کردی ہے۔ اگر سلیم دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر اپنی جان گنوا دیتا تو فرقہ پرستوں کیلئے ایک اور بہانہ مل جاتا کیونکہ یہ لوگ ملک میں گجرات فسادات کے احیاء کیلئے کسی نہ کسی بہانے کی تلاش میں ہیں۔ یاتریوں پر حملہ میں ہلاک ہونے والوں کا بھی گجرات سے تعلق ہے۔ دہشت گردوں کی کوششوں اور منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے ضروری ہیکہ اندرون ملک فرقہ پرستوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ ہندوستانیوں کے اندر نفرت اور انتشار پیدا کرنے کی وجہ سے دہشت گردوں کا کام آسان ہورہا ہے۔ دہشت گردوں کے حملے کا مقابلہ کرنے وا لے گجرات کے بس ڈرائیور سلیم نے یہ پیام دیا ہیکہ اس نے اپنے تمام بس یاتریوں کی جان بچانے کی کوشش کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری میں اہم رول ادا کیا ہے۔ چیف منسٹر گجرات کی جانب سے اس کی دلیری اور بہادری کی تعریف کرنے اور بہادری کیلئے ایوارڈ دینے کے اعلان کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف پھیلائے جانے والے زہریلا پروپگنڈہ کو دھکہ پہنچے گا۔ ہمارے ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کیلئے ضروری ہیکہ ہندوستانی عوام کو متحد کردیا جائے۔ ان میں مذہب کے نام پر تفریق پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس ملک کے ہندو اور مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کیلئے ڈھال بنے رہے ہیں۔ تمام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہندوستانی عوام نے مذہب سے بالاتر ہوکر متحدہ مقابلہ کیا ہے مگر حالیہ برسوں میں فرقہ پرستی کو پھیلانے والی طاقتوں نے ہندوستانی عوام میں فرقہ وارانہ زہر پھیلا کر ملک کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستان کی شناخت اس کی ہندو مسلم بھائی چارگی میں ہے۔ بس ڈرائیور سلیم کی بس کے تمام مسافر ہندو تھے لیکن دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں نے اس اتحاد کو توڑنے کی سازش رچائی تھی اور سیاسی طاقت کو مزید قوی بنانے کیلئے ایک ایسا ڈرامائی منظر پیش کرنے کی کوشش کی تھی جس کو مسلم نوجوان نے ناکام بنادیا۔ اس تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہیکہ ہندوستانی بھائی چارہ کو مضبوط بنایا جائے تو دشمن طاقتوں جیسے دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کا خاتمہ کرنے میں کامیابی ملے گی۔ سیکوریٹی فورس کو بھی امرناتھ یاتریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مؤثر اقدامات انتظامات کے ساتھ سیکوریٹی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے۔ ان فورسز کو حملہ آوروں کو بے نقاب کرنے انہیں قانون کے شکنجے میں لانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ وادی کشمیر میں موت کا کھیل کھیلتے آرہی دہشت گرد تنظیموں کو ناکام بنانے میں متحدہ جدوجہد ضروری ہے کیونکہ ہندوستانیوں کی طاقت ان کے اندر اتحاد اور بھارئی چارہ میں ہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT