Tuesday , October 16 2018
Home / دنیا / امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کیلئے ایران سب سے بڑا خطرہ

امریکہ، اسرائیل اور عرب ممالک کیلئے ایران سب سے بڑا خطرہ

ٹرمپ سے نتن یاہو کی بات چیت، یروشلم کو سفارتخانہ کی منتقلی پر اظہارتشکر

واشنگٹن ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہیکہ وہ یروشلم میں قائم کئے جانے والے امریکہ کے نئے سفارتخانہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو سے بات چیت کے دوران اسرائیلی سیکوریٹی کیلئے اپنے ملک (امریکہ) کی تائید و مدد کے عہد کا اعادہ کیا۔ ٹرمپ نے قیام اسرائیل کے 70 سال کی تکمیل پر ڈسمبر کے دوران یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ مئی کے دوران امریکی سفارتخانہ اس شہر کو منتقل کیا جائے گا۔ ان کے اس فیصلہ سے عالم عرب میں ناراضگی پیدا ہوگئی تھی اور فلسطینی قائدین نے کئی دہائیوں قدیم فلسطینی اسرائیلی تصادم کی یکسوئی میں امریکہ کے ثالثی رول کو مسترد کردیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس سال مئی میں وہ یروشلم امریکی سفارتخانہ کا افتتاح کرنے کیلئے اس شہر کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس پر غور کررہے ہیں۔ ہم بہت جلد اس کی تعمیر کرلیں گے۔ کئی افراد اس طرح جلد (تعمیر) نہیں کریں گے لیکن اس کی بہت جلد اور انتہائی کم مصارف سے تعمیر کرنے جارہے ہیں‘‘۔ ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان عظیم دوستی کی دوبارہ توثیق کی اور اسرائیل کی سیکوریٹی کیلئے امریکہ کے عہد کو دہرایا۔ نتن یاہو سے ٹرمپ کی ملاقات کے بعد وہائیٹ ہاوز نے کہاکہ ٹرمپ نے ایوان کے مسخ شدہ اور داغدار اثرورسوخ کو روکنے اپنے مقصد کو بھی اجاگر کیا۔

نتن یاہو کو اوول آفس میں مدعو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اعلیٰ ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں کہوں گا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات غالباً اب پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ میرے خیال میں ہم کافی قریب ہوتے ہیں جتنے پہلے کبھی نہیں تھے‘‘۔ نتن یاہو نے بھی ٹرمپ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے ان (ٹرمپ) کا اقدام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نتن یاہو نے کہا کہ ’’دوسرے اس بارے میں بات کرتے رہے۔ آپ نے عملاً کر دکھایا۔ چنانچہ اسرائیل کے عوام کی طرف سے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ نتن یاہو نے کہاکہ ’’ہمارے دونوں ملکوں، اپنے عرب پڑوسیوں کو مشرق وسطیٰ میں لاحق سب سے بڑے چیلنج کے بارے میں اگر ایک لفظ میں کہا جائے تو وہ ایران ہے۔ ایران اپنے نیوکلیئر عزائم ترک نہیں کررہا ہے۔ نیوکلیئر سمجھوتہ کے بعد وہ مزید دیدہ دلیری کے ساتھ افزودگی کررہا ہے۔ وہ ہماری سرحدوں کے بشمول ہر طرف جارحیت کررہا ہے۔ ایران کو روکا جانا چاہئے۔ یہ ہمارا مشترکہ چیلنج ہے‘‘۔ اس دوران نتن یاہو اپنے وطن اسرائیل میں بدستور تنازعہ میں گھرے ہوئے ہیں جہاں انہیں رشوت ستانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ سے ملاقات سے چند گھنٹوں قبل یہ توثیق کی گئی کہ اسرائیلی وزیراعظم کے ایک سابق مددگار نے رشوت ستانی کے اس مقدمہ میں سرکاری گواہ بننے سے اتفاق کرلیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT