امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ’’فیصلہ کن‘‘ جنگ کا ایرانی انتباہ

تہران ۔ 12 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل حسن فیروز آبادی نے انتباہ دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے کٹر دشمنوں کے خلاف وہ ’’فیصلہ کن جنگ‘‘ کرنے کیلئے تیار ہے،اگر اس پر حملہ کیا جائے۔ خبر رساں ادارہ فارس کے بموجب فیروز آبادی نے کہا کہ ’’ہم امریکہ اور صیہونی مملکت (اسرائیل) ‘‘ کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کرنے کیل

تہران ۔ 12 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل حسن فیروز آبادی نے انتباہ دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے کٹر دشمنوں کے خلاف وہ ’’فیصلہ کن جنگ‘‘ کرنے کیلئے تیار ہے،اگر اس پر حملہ کیا جائے۔ خبر رساں ادارہ فارس کے بموجب فیروز آبادی نے کہا کہ ’’ہم امریکہ اور صیہونی مملکت (اسرائیل) ‘‘ کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کو بھی انتباہ دیا کہ وہ ایران پر حملہ کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی انہیں اجازت نہ دیں۔ جنرل نے کہا کہ ہماری علاقائی مملکتوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن اگر ہم پر کبھی امریکی فوجی اڈوں سے جو اس علاقہ میں قائم ہے، حملہ کیا جائے تو ہم بھی اس علاقہ پر جوابی حملہ کریں گے۔ امریکہ کے اس علاقہ میں کئی فوجی اڈے ہیں جو بحرین ، کویت ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور ترکی میں قائم ہیں۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتکاری ناکام ہوجائے تو ’’امریکہ فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے اور اسے جو کچھ کرنا چاہئے وہ کرے گا‘‘ لیکن جنرل فیروز آبادی نے امریکہ پر دروغ گوئی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی سے امریکیوں نے اپنی فوجیں اس علاقہ میں تعینات کر رکھی ہیں لیکن انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ ایران پر حملہ نہیں کرسکتے اور اگر حملہ کردیں تو بچ کر واپس نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی فوجی کارروائی کی دھمکی ایک ’’سیاسی دھوکہ دہی‘‘ ہے۔

صدر ایران حسن روحانی نے کل کہا تھا کہ مغربی ممالک کو اس وہم میں نہیں رہنا چاہئے کہ وہ ایران پر حملہ کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی کو یہ وہم ہے کہ مذاکرات کی میز پر ایران کو دھمکیاں دیں گے تو انہیں نئی عینک پہن لینا چاہئے۔ دنیا بھر میں کسی نے بھی ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہے۔ ایران پیر کے دن ویانا میں 6 عالمی طاقتوں برطانیہ ، فرانس، امریکہ ، روس، چین اور جرمنی کے ساتھ بات چیت کا احیاء کرنے والا ہے جس کا مقصد ایک جامع نیوکلیئر معاہدہ ہے۔ قبل ازیں نومبر میں تاریخ ساز عبوری معاہدہ ہوچکا ہے۔ مغربی ممالک طویل عرصہ سے ایران پر نیوکلیئر ہتھیاروں کی خفیہ طور پر تیاری کا شبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ سیویلین نیوکلیئر پروگرام کے ساتھ ساتھ ایران پوشیدہ طور پر نیوکلیئر ہتھیار بھی تیار کر رہا ہے ۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے پر زور انداز میں کہا ہے کہ اس کی نیوکلیئر سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کو نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کیلئے سفارتکاری میں ناکامی پر اس پر حملہ کرنے کے متبادل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT