Friday , September 21 2018
Home / دنیا / امریکہ اور ایران آخری مہلت سے پہلے نیوکلیئر تعطل ختم کرنے کوشاں

امریکہ اور ایران آخری مہلت سے پہلے نیوکلیئر تعطل ختم کرنے کوشاں

مسقط۔ 9؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امریکہ اور ایران نے عمان میں آج سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز کردیا جب کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں معاہدے کو قطعیت دینے کی قطعی آخری مہلت قریب آگئی ہے اور دونوں فریقین پر اپنے اپنے ملک میں معاہدے کی تکمیل کے لئے دباؤ کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے وزیر خارجہ ایران محمد جوا

مسقط۔ 9؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امریکہ اور ایران نے عمان میں آج سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز کردیا جب کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں معاہدے کو قطعیت دینے کی قطعی آخری مہلت قریب آگئی ہے اور دونوں فریقین پر اپنے اپنے ملک میں معاہدے کی تکمیل کے لئے دباؤ کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف سے بات چیت کا آغاز کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کوشش کررہے ہیں کہ 24 نومبر سے قبل بنیادی اختلافات دُور کرلئے جائیں اور ایک عبوری معاہدے کو قطعیت دی جائے جسے ایک طویل مدتی جامع تصفیہ میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اس اجلاس کے بعد یہ انکشافات ہوں گے کہ صدر امریکہ بارک اوباما نے مبینہ طور پر ایران کے اعلیٰ ترین قائد آیت اللہ علی خامنہ ای کو اس معاہدے کی عاجلانہ تکمیل کے لئے دباؤ ڈالنے کی خواہش کی تھی یا نہیں؟ اسلامی جمہوریہ اور مغرب کئی مشترکہ علاقائی مفادات رکھتے ہیں۔ واضح طور پر حوالہ جمہوریہ اسلامیہ اور شام اور عراق میں عسکریت پسند گروپس کی جاریہ جارحانہ کارروائی کا تھا، تاہم اس کی اہمیت کم کرتے ہوئے ہفتہ کے دن بیجنگ میں جان کیری نے کہا تھا کہ دونوں باتوں میں کوئی ربط نہیں ہے۔

نیوکلیئر مذاکرات بالکل مختلف نوعیت کے ہیں، حالانکہ قطعی آخری مہلت قریب آگئی ہے، لیکن ایران اور P5+1 گروپ جو برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی پر مشتمل ہے، نیوکلیئر پروگرام کی تفصیلات کا ہنوز تعین نہیں کرسکے ہیں۔ مغربی ممالک اب بھی ایران کی اس تردید سے مطمئن نہیں ہیں کہ اس نے نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ مغربی ممالک اس معاہدے سے نیوکلیئر بم کو ایران کی رسائی سے ہمیشہ کے لئے باہر کردینا چاہتے ہیں۔ جان کیری اور جواد ظریف کی بات چیت کا آغاز مقامی وقت کے مطابق 11.30 بجے دن ہوا۔ سابق یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن بھی موجود تھیں۔ ایران چاہتا ہے کہ صنعتی معیار کی افزودہ یورینیم پیدا کرے جس کی عالمی طاقتیں مخالف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT