Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں تشویشناک اضافہ

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں تشویشناک اضافہ

بڑی طاقتیں فکرمند، صبروتحمل کیلئے دونوں ملکوں کو صبروتحمل روس اور جرمن کا مشورہ ، بیان بازی سے گریز پر زور

ماسکو۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے کوئی ’کم عقلی‘ کی تو واشنگٹن فورا فوجی جواب دینے سے ہچکچائے گا نہیں۔ اسی دوران امریکا اور کمیونسٹ کوریا کے مابین تصادم کے ’شدید خطرے‘ پر ماسکو کو بھی بہت پریشانی ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں جمعے کے روز کہا کہ شمالی کوریا کو کوئی بھی ’غیر دانش مندانہ کام‘ نہیں کرنا چاہیے، دوسری صورت میں ’معاملے کا فوجی حل نکالنے‘ میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔امریکی صدر نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ’’معاملے کے کسی بھی عسکری حل کے لیے اقدامات اپنی جگہ بالکل تیار ہیں۔ (ہتھیار) لوڈ شدہ حالت میں ہیں۔ امید ہے کہ (شمالی کوریا کے رہنما) کم جونگ اْن کوئی دوسرا راستہ ہی اپنائیں گے۔‘‘امریکی صدر نے اسی ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے امریکا کو دھمکیاں دینا بند نہ کیں، تو اسے امریکا کے ’غصے اور آگ‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس پر پیونگ یانگ میں کمیونسٹ کوریا کی قیادت نے یہ دھمکی بھی دے دی تھی کہ وہ بحرالکاہل میں امریکی انتظامی جزیرے گوآم پر بیلسٹک میزائلوں کے ایک پورے سلسلے کے ساتھ حملے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔جزیرہ نما کوریا پر شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین پائی جانے والی شدید کشیدگی اور کمیونسٹ کوریا کے امریکا کے ساتھ انتہائی سخت اور دھمکی آمیز بیانات کے اس تبادلے پر روس نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعے کے روز ماسکو میں کہا کہ شمالی کوریا کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پیونگ یانگ اور امریکہ کے مابین عسکری تصادم کا ’شدید خطرہ‘ ہے اور ماسکو کو فریقین کے مابین جذباتی نوعیت کی فوجی دھمکیوں کے اس تبادلے پر گہری تشویش ہے۔ جرمنچانسلر انجیلا میرکل کے اس بیان کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پیونگ یانگ اور واشنگٹن کے مابین عسکری نوعیت کی جو جذباتی بیان بازی ہو رہی ہے، وہ ان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے کسی ممکنہ حل میں معاون نہیں ہو گی۔چانسلر میرکل نے کہا کہ امریکا اور شمالی کوریا دونوں کو ہی اپنی اپنی بیان بازی میں جذباتیت کو کم کرنا ہو گا۔

TOPPOPULARRECENT