Wednesday , June 20 2018
Home / دنیا / امریکہ میں ایک شخص کو غلطی سے 25 سال کی قید

امریکہ میں ایک شخص کو غلطی سے 25 سال کی قید

قید کے ہر ایک دن کی قیمت وصول کرنے 25 ملین ڈالر کا ہرجانہ

قید کے ہر ایک دن کی قیمت وصول کرنے 25 ملین ڈالر کا ہرجانہ

نیویارک ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک شخص نے جس کو غلط فیصلے کے سبب تقریباً 25 سال تک جیل بھیج دیا گیا تھا، حکومت کے خلاف 25 ملین ڈالر کا حرجانہ کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈیرک ڈکان نے ناکردہ جرم کے سبب تقریباً ربع صدی سلاخوں کے پیچھے گذارا اور اب رہائی کے بعد فیصلہ کیا ہیکہ حکومت کے خلاف 25 ملین ڈالر کے حرجانہ کا دعویٰ کیا جائے تاکہ کسی ملزم کو غلط طور پر سزاء دلانے قواعد میں توڑجوڑ کرنے والے حکام کو سبق سکھایا جاسکے۔ ڈیرک ڈکان نے کہا کہ ’’ان افراد کو چاہئے کہ وہ میرے ہر ایک دن کی قیمت ادا کرے جنہوں نے مجھے بلاوجہ کے قیدخانہ کی مصیبتوں میں رکھا تھا‘‘۔ بروک لین سے تعلق رکھنے والے ڈکان کو 21 ڈسمبر 1989ء کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اپریل میں پیش آیا تھا جس میں 16 سالہ انتھونی ون ہلاک ہوگیا تھا۔ مقدمہ میں ڈکان کو مجرم قرار دیئے جانے کے بعد 25 سال کی سزائے قید دی گئی تھی۔ تاہم 20 جون 2012ء کو مقدمہ کی ازسرنو سماعت ہوئی جس میں ڈکان نے کہا کہ ٹولی کے ایک رکن نے ون کو ہلاک کیا تھا۔ اس مقدمہ میں ایک خاتون بھی گواہ کے طور پر پیش ہوئی اور ڈکان کے بیان کی توثیق کی۔ اس خاتون کولن کیمبیل نے الزام عائد کیا کہ تحقیقات کنندگان نے اس کو اپنی مرضی کے مطابق بیان دینے کیلئے مجبور کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے اپنے بچوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ بروک لین سپریم کورٹ نے نومبر کے دوران صرف 9 منٹ کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے ڈکان کو منصوبہ الزامات سے بری کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT