Thursday , December 13 2018

امریکہ میں ’’بندوق تشدد‘‘ کا طویل مدتی حل نکالنے ٹرمپ کا عہد

فلوریڈا اردو ہائی اسکول اور دیگر اسکولوں میں فائرنگ واقعات کے بعد گن کلچر کو روکنے کیلئے مختلف اقدامات پر غور
واشنگٹن۔ 22 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے آج اس بات کا عہد کیا کہ وہ امریکہ میں ’’بندوق تشدد‘‘ کو ختم کرنے کا طویل مدتی حل نکالنے کیلئے اقدامات کریں گے۔ امریکہ میں ہر روز بندوق تشدد بڑھتا جارہا ہے۔ گذشتہ ہفتہ ہی فلوریڈا کے اسکول میں فائرنگ ہوئی تھی جس میں 17 طلباء اور 3 ٹیچرس ہلاک ہوئے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس فائرنگ میں بچ جانے والے ایک گروپ سے جن میں مہلوک بچوں کے والدین، ارکان خاندان بھی شامل تھے۔ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر چیز کو باریک بینی سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر وہ چیز پر غور کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعہ ملک میں ’’گن کلچر‘‘ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ہم اس مسئلہ کا طویل مدتی حل تلاش کرکے ہی رہیں گے۔ اس جلسہ میں اسکول فائرنگ کے بعد تشکیل دی گئی کمیٹی کے ارکان بھی شریک تھے۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پنس اور وزیرتعلیم بٹسے ڈیوس بھی موجود تھے جنہوں نے صدر ٹرمپ کی تقریر کی سماعت کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ فائرنگ واقعات کے بعد آپ لوگوں کو شدید صدمہ ہوا ہے اور سانحہ سے گذرتے ہوئے آپ لوگوں کو جو تکلیف ہوئی ہے اس کا ہم تمام کو احساس ہے۔ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ فلوریڈا اسکول میں ہلاک ہونے والی ایک لڑکی کے والد نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ملک کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک طاقتور ملک کی حیثیت سے اپنے بچوں کو بچانے میں ناکام ہوئے ہیں۔

اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔ میں طیارہ میں پانی کی ایک بوتل لے کرنہیں جاسکتا لیکن بعض جانور آسانی سے ایک اسکول میں گھس کر ہمارے بچوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔ یہ افسوسناک بات ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں ایسا کام کرنا چاہئے جس سے ہمارے بچے اور ہم محفوظ رہ سکیں۔ اسکولوں میں اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے کچھ سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں حقیقت میں اسکول کے اندر خود کو محفوظ سمجھنا چاہتی ہوں۔ ایک ٹیچر نے یہ بات بتائی۔ امریکہ کی سڑکوں پر چلنا بھی اب خوف سے خالی نہی رہا کیونکہ اگر میں اور میرے دوست باہر نکلتے ہیں اور ہمارے قریب سے جب کوئی کار گذرتی ہے تو ہم خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ پارک لینڈ کی مرچوری اسٹوفن ڈوگلس سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ سیام زیف نے کہا کہ اس کے دوست کو گذشتہ ہفتہ کی فائرنگ میں ماردیا گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اجلاس میں شریک تمام متاثرین کی آپ بیتی سماعت کی اور کہا کہ آپ میں سے کسی کے پاس گن کلچر روکنے کا کوئی منصوبہ یا آئیڈیا ہے تو ہم کو بتائیں۔ اجلاس میں شریک ایک شخص نے بتایا کہ اسکولوں میں رہنے والے ٹیچرس، ایڈمنسٹریٹرس اور والینٹرس کو ازخود آتشیں اسلحہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن ان کے اسلحہ کو محفوظ طور پر کلاس روم میں مقفل کردیا جائے اور اس سلسلہ میں سال بھر ٹریننگ دی جائے۔ ایسے کئی ٹیچرس ہیں جن کے پاس پہلے ہی سے بندوق ساتھ لے جانے کا لائسنس ہیں۔ ٹرمپ نے اس آئیڈیا کی حمایت کی۔

TOPPOPULARRECENT