Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / امریکہ میں خاتون کے ’’بندنا‘‘کوحجاب سمجھ کر حملہ

امریکہ میں خاتون کے ’’بندنا‘‘کوحجاب سمجھ کر حملہ

مسلم ہونے کے شبہ میں سکھ شخص کے ساتھ بدگوئی اور امریکی اسٹور میںہراسانی
سان فرانسسکو۔20نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک 41سالہ ہندوستانی نژاد امریکی خاتون کو نسلی منافرت پر مبنی حملہ کا امریکی ریاست کیلیفورنیا میں نشانہ بنایا گیا ۔ اس کے بندنا کو حجاب سمجھ لیا گیا تھا ۔ یہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے بعد سلسلہ وار حملوںکا تازہ ترین واقعہ ہے ۔ نکی پنچولی ’’امن چہل قدمی ‘‘ میں  مصروف تھی ‘ جب کہ اُس پر حملہ کیا گیا ۔ اُس کی کار کی کھڑکی کا شیشہ چکناچور کردیا گیا ۔ اس کا پرس کھوگیا ہے ۔ اُسے ایک تحریر حوالے کی گئی کہ وہ حجاب کیوں پہنے ہوئے ہے ‘ اُسے جلد از جلد اس سے چھٹکارہ حاصل کرلینا چاہیئے ۔ نکی پنچولی مسلم نہیں ‘ راجستھانی عورت ہے اور دھوپ کی وجہ سے بال جھڑنے کی بیماری میں مبتلا ہے اسی لئے اُس نے اپنے بالوں کو دھوپ سے بچانے کیلئے سر پربندنا باندھ رکھا تھا ‘ یہ حجاب نہیں تھا ۔ بوسٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایک 22سالہ سکھ کو جو باوقار ہارورڈ لاء اسکول کا طالب علم ہے مبینہ طور پر یونیورسٹی سے احاطہ کے قریب ایک اسٹور میں ایک شخص کی بدگوئی اور ہراسانی کا نشانہ بنا جس نے اُسے مسلمان سمجھ لیا تھا ۔ ہرمن سنگھ سال اول کا طالب علم ہے ‘ اُس نے کہا کہ وہ کیمبرج ( میساچوسیٹ) کے ایک اسٹور میں خریداری کررہا تھا ۔ جب کہ اُسے مسلم سمجھ کر کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے کلرک نے بدگوئی کا نشانہ بنایا اور اسے ہراساں بھی کیا ۔ اسے اس رویہ پر سخت رنج پہنچا ۔اس کے ساتھ جو بھی ہوا ہے یہ نفرت انگیز جرم ہے اور اسے تشدد کے زمرہ میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ اُس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس کی برادری کے دیگر لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ بھی ممکن ہے کہ یہی سلوک کیا جارہا ہو لیکن انہوں نے اس کی کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی۔

TOPPOPULARRECENT