Wednesday , December 12 2018

امریکہ میں دھوکہ بازوں نے ہندوستانی سفارتخانہ کے فون لائینس کو ہیک کرلیا

پاسپورٹ ، ویزا فارم میں خامیوں کی اصلاح کے نام پر رقم بٹورنے کی کوشش ، ہندوستانیوں سے شخصی معلومات دریافت
واشنگٹن ۔ 5 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں شاطر دھوکہ بازوں اور جعلسازوں نے عوام سے رقم بٹورنے ہندوستانی سفارتخانہ کی ٹیلی فون لائینوں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے انھیں ہیک کرلیا ۔ جس کے بعد ہندوستانی سفارتخانہ کی طرف سے جاری کردہ مشاورتی نوٹ میں عوام کو خبردار کیا گیاہے کہ ان کے نمبر سے آنے والے مشتبہ کالس وہ قبول نہ کریں۔ ہندوستانی سفارتخانہ نے اس ضمن میں حکومت امریکہ کو مطلع کرتے ہوئے خود اپنے طورپر داخلی تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ۔ عوام کو دھوکہ دہی کا شکار بناتے ہوئے رقم بٹونے کے مقصد سے کئے جانے والے ٹیلی فون کالس سے چوکسی اختیار کرنے شاذ و نادر نوعیت کا مشاورتی نوٹ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ دھوکہ باز کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات وغیرہ جیسی شخصی معلومات حاصل کرتے ہیں یا پھر ہندوستانی شہریوں سے اس دعویٰ کے ساتھ رقومات بٹونے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا پاسپورٹ ، ویزا فارم ، ایمیگریشن فارم وغیرہ میں خامیاں ہیں جن کی رقم کی ادائیگی کے ذریعہ اصلاح کی جاسکتی ہے ۔ اس کے ساتھ یہ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ ان خامیوں کی اصلاح نہ کئے جانے کی صورت میں اُنھیں ملک بدر کیا جاسکتا ہے یا پھر امریکہ میں قید ہوسکتی ہے ‘‘ ۔ امریکہ میں مقیم چند ہندوستانیوں نے اس قسم کے کالس موصول ہونے کے بعد اپنے سفارتخانہ کو اس سے مطلع کیا کہ بعض دھوکہ دبازوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے مقصد سے ہندوستانی سفارتخانہ کے ٹیلی فون لائینوں کو ہیک کرلیا ہے ۔ چند فون کالس پر ہندوستانی سفارتخانہ کے نمبرس بتائے گئے تھے جبکہ دیگر چند کالس پر صرف ہندوستانی سفارتخانہ کی شناخت ظاہر کی گئی تھی ۔ ان دھوکہ بازوں نے بعض افراد سے کہا کہ انھیں ہندوستانی سفارتخانہ یا پھر ہندوستان میں حکام سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ویزا کے خواہشمند بعض درخواست گذاروں کو بھی سفارتخانہ کے نمبر سے فرضی کالس موصول ہوئے تھے ۔ انھیں بتایا گیا تھا کہ ہندوستانی سفارتخانہ نے عوام سے ویسٹرن یونین اکاؤنٹ نمبرس یا اُن بینک کھاتوں کی تفصیلات طلب کیا ہے جن کو رقم منتقل کی گئی ہے ۔ ہندوستانی سفارتخانہ نے اپنی بدنامی کا سبب بننے والے کالس کی اطلاع پر فکر و تشویش کے ساتھ جاری کردہ مشاورتی نوٹ میں کہا کہ ’’اس ( ہندوستانی سفارتخانہ ) یا اس کے کسی بھی عہدیدار نے کسی بھی ہندوستانی یا بیرونی شہری سے شخصی معلومات یا دیگر تفصیلات کے حصول کیلئے کوئی فون کال نہیں کیا ‘‘ ۔ باخبر امریکی حکام کے مطابق ماضی میں بھی اُنھیں دیگر کئی سفارتخانوں سے ایسی ہی شکایات موصول ہوچکی ہیں ۔ بالخصوص کئی یوروپی ممال کے سفارتخانوں کو بھی اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ حکام نے کہا کہ ٹیلی فون لائینوں کو ہیک یا اسپوف کرنے کی ٹکنالوجی بہ آسانی دستیاب ہے ۔ اس قسم کے فون کالس کے حقیقی مقام کا پتہ چلانا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔ امریکی شہری اکثر ہندوستان میں واقع مختلف کال سنٹرس سے امریکی انٹرنل ریونیو سرویس کے نام پر اس قسم کیدھوکہ بازی پر مبنی فون کالس کا شکار بنائے جاتے رہے ہیں ۔ ہندوستانی حکام گزشتہ ایک سال کے دوران اس قسم کے فرضی کالس کرنے والے بے شمار دھوکہ بازوں کو گرفتار کرچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT