Wednesday , September 26 2018
Home / دنیا / امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت پر مظاہرے جاری

امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت پر مظاہرے جاری

نیویارک ، 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سفید فام پولیس ملازمین کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت پر ہزاروں افراد نیو یارک سمیت دیگر بڑے شہروں میں اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر انسانی حقوق کے کارکنان نے اس تناظر میں تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف سے نالاں ہزاروں افراد نے

نیویارک ، 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سفید فام پولیس ملازمین کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت پر ہزاروں افراد نیو یارک سمیت دیگر بڑے شہروں میں اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر انسانی حقوق کے کارکنان نے اس تناظر میں تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف سے نالاں ہزاروں افراد نے جمعہ کی رات بھی اپنے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی طرح میامی، شکاگو، بوسٹن، نیو اورلین اور دارالحکومت واشنگٹن بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسے حالیہ واقعات پر سراپا احتجاج ہے، جن میں سفید فام پولیس اہلکاروں نے چار مختلف واقعات میں نہتے سیاہ فام امریکی شہریوں کو مبینہ طور پر ہلاک کر دیا ہے۔ تازہ احتجاج کا تازہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے، جب آکائی گیرولی نامی ایک اور

سیاہ فام کی ہلاکت کے حوالے سے حقائق جاننے کیلئے نیو یارک کی گرینڈ جیوری ترتیب دی جانے والی ہے۔ یاد رہے کہ بروکلین میں ایک سفید فام پولیس اہلکار نے گزشتہ 20 نومبر کو غلط فہمی کا شکار ہوتے ہوئے 28 سالہ گیرولی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بروکلین ڈسٹرکٹ اٹارنی کین تھامسن نے یقین دلایا ہے کہ وہ گرینڈ جیوری کو تمام تر ضروری شواہد فراہم کریں گے تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ آیا، گیرولی پر فائر کرنے والے پولیس اہلکار پر فرد جرم عائد کی جانا چاہیے۔ انہوں نے عہد کیا کہ اس تناظر میں جامع اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ دوسری طرف نیو یارک پولیس کے کمشنر ولیم بریٹن نے گیرولی کی ہلاکت کو ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر معصوم تھا۔ گیرولی کی تدفین آج ہفتے کے دن کی جارہی ہے۔ دریں اثناء فینکس میں بھی منگل کے دن ایک پولیس اہلکار نے رومین برسبون نامی ایک غیر مسلح سیاہ فام کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق متعلقہ افسر کو شبہ تھا کہ 34 سالہ برسبون کے پاس پستول تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ مظاہرین نو اگست کو میسوری ریاست کے شہر سینٹ لْوئیس کی نواحی بستی فرگوسن میں 18 سالہ مائیکل براؤن اور سترہ جولائی کو نیو یارک میں ایرک گارنر کی ہلاکت کیلئے پولیس اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دے رہیں۔ تاہم دونوں کیسوں میں گرینڈ جیوریز نے سفید فام پولیس اہلکاروں کو ان سیاہ فاموں کی ہلاکت کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT