Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / امریکہ میں شدید مظاہرے ’’ٹرمپ ہمارے صدر نہیں‘‘ کے نعرے

امریکہ میں شدید مظاہرے ’’ٹرمپ ہمارے صدر نہیں‘‘ کے نعرے

نیویارک 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) لاکھوں برہم امریکی شہری ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔ وہ نعرے لگارہے تھے ’’ہمارے صدر نہیں‘‘ اور ’’امریکہ فسطائی نہیں‘‘ اس طرح ایک ماہ طویل تلخ انتخابی مہم کے بعد سیاسی انتشار میں شدت پیدا ہوگئی۔ احتجاجی مظاہرے عوام نے امریکہ کے کم از کم 25 شہروں بشمول نیویارک، ناشویلے، شکاگو، کلیو لینڈ، سان فرانسسکو اور سیاٹل میں کئے۔ وہ ٹرمپ مخالف نعرہ بازی کررہے تھے۔ اُن کے پتلے نذر آتش کررہے تھے اور کل کے عام انتخابی نتائج پر شمعیں جلاکر سوگ منارہے تھے۔ کئی افراد کو گرفتار کرلیا گیاجن میں عمر، مذہب اور قومیت کے ہر زمرے کے افراد شامل ہیں۔ برہم امریکی نیویارک، شکاگو، فلاڈلفیا، بوسٹن، کیلیفورنیا، کولورائیڈو، سیاٹل، لاس اینجلس، پورٹ لینڈ، اٹلانٹا، آسٹل، ڈنویر، سان فرانسسکو اور دیگر شہروں میں تاریخی یادگار کے مقامات پر جمع ہوئے تھے۔ بعدازاں انھوں نے سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک کے درمیان سے جلوس نکالا۔ وہ پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا ’’مزید نفرت انگیزی نہیں‘‘ اور نعرے لگارہے تھے ’’ہمارے صدر نہیں‘‘۔ ’’آج ہرگز نہیں‘‘۔ نیویارک میں ٹرمپ ٹاور کے روبرو جو ٹرمپ کی قیامگاہ ہے، احتجاجی جمع ہوگئے۔ اُن کے پلے کارڈس پر تحریر تھا ’’ڈمپ ٹرمپ‘‘ (ٹرمپ کو کوڑے دان میں ڈال دو) احتجاجی تقریباً 40 سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے منعقد کررہے تھے۔ عہدیداروں کے تخمینے کے بموجب 5 ہزار افراد نے ٹرمپ مخالف احتجاجی مظاہروں میں بشمول پاپ اسٹار لیڈی گاگا نے احتجاج میں حصہ لیا جنھوں نے کل ہیلاری کلنٹن کی تائید میں انتخابی جلسہ میں شرکت کی تھی۔ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر برہم عوام ’’ٹرمپ نہیں، کے کے کے نہیں، فسطائی امریکہ نہیں اور ہمارے صدر نہیں‘‘ نعرے تحریر تھے۔ ٹرمپ کی کامیابی کے چند ہی گھنٹے بعد اُن کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے۔ احتجاجیوں میں اقلیتیں، خواتین اور تارکین وطن اُن کے خلاف ٹرمپ کے بیانات پر احتجاج کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT