Wednesday , June 20 2018
Home / دنیا / امریکہ میں لاکھوں ہندوستانیوں کو راحت، ایچ ون ۔بی توسیع برقرار

امریکہ میں لاکھوں ہندوستانیوں کو راحت، ایچ ون ۔بی توسیع برقرار

قانون میں تبدیلی کی اطلاعات مسترد، یو ایس سی آئی ایس کی وضاحت
واشنگٹن 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی سافٹ ویر پیشہ وروں کو راحت پہونچاتے ہوئے آج کہاکہ ٹرمپ انتظامیہ ایسی کسی بھی تجویز پر غور نہیں کررہا ہے جس کے ذریعہ ایچ ون ۔بی ویزا رکھنے والوں کو ملک چھوڑ کر جانے کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ امریکی شہریت و ایمیگریشن سرویس (یو ایس سی آئی ایس) کے اس اعلان سے چند دن قبل یہ اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ایچ ون ۔بی ویزا قوانین کو سخت بنانے پر غور کررہا ہے اور اس صورت میں 7,50,000 ہندوستانیوں کو ملک واپس کردیا جاسکتا ہے۔ ان اطلاعات میں یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایچ ون ۔بی ویزا میں توسیع کا طریقہ کار ختم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک امریکی عہدیدار نے اعلان کیاکہ ’’(یو ایس سی آئی ایس) ضابطہ میں کسی تبدیلی پر غور نہیں کررہا ہے۔ 21 ویں صدی کے امریکی مسابقتی قانون کی دفعہ 104 کے تحت ایچ ون ۔بی ویزا میں زائداز 6 سال تک توسیع کی جاتی ہے۔ یو ایس سی آئی ایس میں میڈیا ریلیشنز کے سربراہ جوناتھن وتھنگٹن نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ’’حتیٰ کہ اگر ایسی کوئی تبدیلی بھی کی جاتی ہے تو بھی H-1B ویزا ہولڈرس کو امریکہ چھوڑنے کے لئے مجبور ہونا نہیں پڑے گا کیوں کہ اس کے بجائے آجرین اس ضمن میں اے سی 21 قانون کی دفعہ 106(a)-(b) کے تحت ایک سالہ انکریمنٹس (اضافہ تدریجی) کی درخواست کرسکتے ہیں‘‘۔ وتھنگٹن نے مزید کہاکہ ’’یہ ایجنسی صدر (ڈونالڈ ٹرمپ) کے ’’امریکی کی خرید، امریکی کے حصول کے زیرعنوان عاملانہ حکمنامے پر عمل آوری کیلئے کئی ایک پالیسیوں اور ضابطوں کی تبدیلی پر غور کررہی ہے جس میں روزگار پر مبنی پروگراموں پر نظرثانی بھی شامل ہے‘‘۔ امریکی ذمہ داروں کے یہ وضاحتی بیانات ایک ایسے وقت منظر عام پر آئے ہیں جن سے ایک ہفتہ قبل امریکہ کے ایک خبررساں ادارہ مک کلاچی ڈی بیورو نے یہ خبر دی تھی کہ ایچ ون ۔بی ویزوں میں توسیع کو روکنے نئے ضابطوں پر غور کیا جارہا ہے۔ ایچ ون ۔بی ویزا پر ہندوستانی آئی ٹی پیشہ وروں کی کثیر تعداد امریکہ میں برسر خدمت ہے اور یہ ویزا اور اس میں توسیع ہندوستانیوں کے لئے شدت سے مطلوب اور نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔ ویتھنگٹن نے کہاکہ ’’یو ایس سی آئی ایس نے کبھی بھی ایسی پالیسی تبدیلی پر غور نہیں کیا ہے اور دباؤ کے تحت یو ایس سی آئی ایس کی جانب سے اپنے موقف کی تبدیلی کا خیال بالکل غلط ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT