Tuesday , December 11 2018

امریکہ میں لڑکے کے قاتل ملازم پولیس کو زندگی کا خوف

واشنگٹن۔14جون ( سیاست ڈاٹ کام ) کلیولینڈ کی پولیس کا ایک عہدیدار جس نے ایک 12سالہ سیاہ فام لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ‘ جب کہ وہ ایک نقلی بندوق لہراتا ہوا گھوم رہا تھا ‘ اپنی زندگی کے بارے میں خوف کا شکار ہیں ۔ دو دن قبل ایک جج نے فیصلہ سنایا تھا کہ دو پولیس عہدیدار جو اس موت میں ملوث ہیں انہیں فوجداری مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

واشنگٹن۔14جون ( سیاست ڈاٹ کام ) کلیولینڈ کی پولیس کا ایک عہدیدار جس نے ایک 12سالہ سیاہ فام لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ‘ جب کہ وہ ایک نقلی بندوق لہراتا ہوا گھوم رہا تھا ‘ اپنی زندگی کے بارے میں خوف کا شکار ہیں ۔ دو دن قبل ایک جج نے فیصلہ سنایا تھا کہ دو پولیس عہدیدار جو اس موت میں ملوث ہیں انہیں فوجداری مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ گدشتہ نومبر میں جب کہ امریکہ میں نسلی منافرت عروج پر تھی سلسلہ وار کئی واقعات پیش آئے تھے جن میں سیاہ فام مردوں اور لڑکوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔ اُن میں تمیر رئس بھی شامل تھا جسے پولیس نے گولی مارکر شدید زخمی کردیا تھا ۔ جب کہ وہ ایک نقلی بندوق اٹھائے گھوم رہا تھا ۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ ایک نقلی بندوق تھی لیکن زخمی لڑکا بعد ازاں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ‘ فوری طور پر انکشاف ہوا کہ وکلاء استغاثہ نے پولیس تحقیقات کے نتیجہ میں رئس کے مہلک انداز میں زخمی ہوجانے کی جج کو اطلاع دی اور کہا کہ پولیس عہدیدار ٹیموتھی لوہائیمن نے لڑکے کے ہاتھوں پر گولی چلانے کے بجائے اس کے سر میں گولی ماری تھی ۔مقدمہ کا سامنا کرنے والے پولیس عہدیدار ٹیموتھی کو خوف ہے کہ اُسے سزائے موت سنائی جائے گی ۔ اُسے اپنی موت کا یقین ہے یا اندیشہ ہے کہ کم از کم اُسے شدید زخمی کردیا جائے گا ۔ یہ سیاہ فام لڑکے کو ہلا کرنے کی انتقامی کارروائی ہوگی ۔ پولیس عہدیدار نے کہاکہ وہ اپنی کارروائیوں کیلئے کوئی صفائی پیش نہیں کرنا چاہتا ۔اُس نے برسرموقع کارروائی کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT