Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / امریکہ میں مسلم خاتون کو حجاب کرنے پر اسٹور سے نکال دیا گیا

امریکہ میں مسلم خاتون کو حجاب کرنے پر اسٹور سے نکال دیا گیا

اسٹور منیجر کی خاتون کے ساتھ بحث اور بدتمیزی، پولیس کو طلب کرنے کی دھمکی

شکاگو 4 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور امتیازی برتاؤ کے واقعات میں اضافہ کے درمیان ایک 32 سالہ مسلم خاتون نے بتایا کہ امریکی ڈپارٹمنٹ اسٹور میں اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ جب وہ حجاب کے ساتھ اسٹور میں داخل ہوئیں تو رٹیل آؤٹ لیٹ کے منیجر نے فوری وہاں سے چلے جانے کے لئے زور دیا۔ مسلم خاتون سارہ صفی انڈیانا اسٹیٹ کے گیرے علاقہ سے تعلق رکھتی ہیں جب وہ فیملی ڈالر اسٹور میں داخل ہوئیں تو انھیں روک دیا گیا۔ انھوں نے اس واقعہ کو اپنے سیل فون ویڈیو پر ریکارڈ کرلیا جو ان کے بچوں کے سامنے پیش آیا تھا۔ اس اسٹور کے منیجر نے مسلم خاتون کے ساتھ بحث شروع کی اور بدتمیزی کرنے لگا اور کہاکہ آپ کو اپنا نقاب اُتار کر اندر آنا ہوگا یا پھر میرے اسٹور سے فوری چلے جانا ہوگا۔ اس بحث کے دوران سارہ صفی نے اسٹور منیجر کی بحث کو ریکارڈ کرلیا۔ انھوں نے کہاکہ وہ فیملی باربیکیو کے لئے کوئلہ خریدنے کے لئے پیر کے دن اسٹور میں داخل ہوئی تھیں لیکن انھیں روک دیا گیا۔ میں بمشکل 10 قدم ہی اندر پہونچی تب ہی کاؤنٹر پر کھڑی لیڈی نے کہاکہ آپ کو نقاب اُتار کر آنا ہوگا۔ ورنہ آپ یہاں سے چلی جائیں۔ انھوں نے اس لیڈی سے کہاکہ انھوں نے یہ نقاب اور حجاب اپنے مذہبی مقصد سے پہنا ہے لیکن اس لیڈی نے جو خود کو اسٹور کی منیجر بتارہی تھی۔ سارہ صفی پر زور دیا کہ وہ فوری اسٹور چھوڑ دیں۔ میں نے اس اسٹور منیجر سے کہاکہ اس ملک میں مذہب کی آزادی، بولنے کی آزادی ہے اور مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں جو پسند کرتی ہوں وہ پہنوں۔ اسٹور کے باہر کار میں ان کے بچے انتظار کررہے تھے۔ اسٹور کے ملازم نے صفی سے کہاکہ اگر وہ یہاں سے نہیں گئیں تو پولیس کو طلب کیا جائے گا۔ اس پر صفی نے جواب دیا کہ کیا مجھے پولیس کے آنے کا انتظار کرنا چاہئے اور میرے بچوں کو یہ سب کچھ دیکھنے کی نوبت آنی چاہئے۔ میں اپنا حجاب نہیں اُتاروں گی کہہ کر وہ اسٹور سے چلی گئیں۔ اس واقعہ کے بعد مجھے صدقہ ہوا۔ میں یہاں پیدا ہوئی اور میری ساری زندگی یہاں گزری۔ آج میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا گیا۔ انھوں نے کہاکہ وہ برسوں سے نقاب پہن کر نکلتی رہی ہیں۔ اب وہ چاہتی ہیں کہ اسٹور کے ملازمین اپنی اس حرکت کے لئے معذرت خواہی کریں۔ یہ اس ملک کے انسانی حقوق خواتین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

TOPPOPULARRECENT