Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / امریکہ میں مسلم طلباء کے قتل کے خلاف سعودی عرب ،قطر میں احتجاج

امریکہ میں مسلم طلباء کے قتل کے خلاف سعودی عرب ،قطر میں احتجاج

ریاض؍دوحہ ۔ /15 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں تین مسلم طلباء کے قتل پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب اور قطر میں سینکڑوں شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ قطر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مارچ نکالتے ہوئے اس گھناؤنے دہشت گرد کارروائی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ دوحہ قطر میں شمالی کیرولینا کے مسلم طلباء کے ارکان خاندان سے اظ

ریاض؍دوحہ ۔ /15 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں تین مسلم طلباء کے قتل پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب اور قطر میں سینکڑوں شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ قطر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مارچ نکالتے ہوئے اس گھناؤنے دہشت گرد کارروائی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ دوحہ قطر میں شمالی کیرولینا کے مسلم طلباء کے ارکان خاندان سے اظہار یگانگت کیلئے ریالی نکالی گئی ۔ مارچ میں شامل سعودی باشندوں نے امریکہ میں نوجوان عرب طلباء پر کئے گئے حملوں کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں زیرتعلیم سعودی طلباء کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں ۔ خلیجی ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی اسکالر شپس کے ذریعہ امریکہ میں زیرتعلیم سعودی طلباء کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ سعودی عرب نے کوپن ہیگن اور نارتھ کیرولینا میں ہونے والے تشدد ، مسلم طلباء کے قتل اور یہودی پر حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امریکہ کو دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف اقدامات کرنے چاہئیے ۔

سعودی پریس ایجنسی نے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے دہشت گرد حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن اور امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں حالیہ حملوں کے حوالے سے سعودی عرب نے کہا کہ یہ حملے گھناؤنی کارروائیاں ہیں ۔ سعودی عرب ساری دنیا میں مذاہب کے احترام کی ضرورت پر زور دیتا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف دیگر مذاہب کے افراد کو اکسانے اور حملوں کی مخالفت کرتا ہے ۔ اسی دوران تنظیم اسلامی کارپوریشن نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے مخالف اسلام حملوں کو تشویشناک قرار دیا اور تین مسلم طلباء کے قتل کی شدید مذمت کی ۔ ایک پڑوسی کی جانب سے مخالف اسلام نظریات کو ظاہر کرنا اور مسلم طلباء پر حملہ کرنا تشویشناک عمل ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں اسلام فوبیا میں اضافہ ہورہا ہے ۔ شمالی کیرولینا یونیورسٹی میں منگل کو ایک امریکی نے 23 سالہ شاہدی برکت ان کی اہلیہ یوسر محمد 21 سالہ اور ان کی بہن 19 سالہ رزان کا قتل کیا تھا ۔

ان تینوں کو قریب سے گولی ماری گئی تھی ۔ 46 سالہ پڑوسی کرائیک اسٹیفن ہیگس پر تھری کاؤنٹیس نے قتل کا مقدمہ دائر کیا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے ۔ مہلوکین کے رشتہ داروں کو بھی ان کے عقائد کے باعث نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ او آئی سی سکریٹری جنرل عیاد مدنی نے کہا کہ مسلم طلباء پر حملہ ایک گھناؤنا جرم ہے ۔ اس واقعہ نے ساری مسلم دنیا کو صدمہ سے دوچار کردیا ہے ۔ مسلمانوں کے تیئں بڑھتی نفرت اور احساسات میں اضافہ کے باعث تشویش پیدا ہورہی ہے ۔ امریکہ میں مخالف اسلام کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام فوبیا اثر پکڑ رہا ہے ۔ انہوں نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے تحفظ کیلئے سختی اقدامات کریں ۔ مسلمانوں کے خلاف منفی امیجس ، امتیازی سلوک اور امریکی سوسائیٹی کے اہم اقدار کے برعکس ہونے والی کارروائیوں کا سخت نوٹ لیا جانا چاہئیے ۔ عیاد مدنی نے بین الاقوامی سطح پر تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ دنیا بھر میں جاری انتہا پسندی تشدد اور مذہبی عدم رواداری کے بڑھتے واقعات کو کچلنے کیلئے ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔ نفرت پر مبنی جرائم مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے دیگر اقوام کو اکسانے کا کام کررہے ہیں ۔ فیڈرل بیورو نے طلباء کے قتل کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ واضح رہے کہ کوپن ہیگن میں اسلام اور آزادی کی تقریر کے موضوع پر ایک یہودی کو گولی ماری گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT