Monday , December 11 2017
Home / اداریہ / امریکہ میں نسل پرستی

امریکہ میں نسل پرستی

لہو بہے نہ کسی بھی زمیں پہ آدم کا
اِسی میں دوستو! ہر ملک کی بھلائی ہے
امریکہ میں نسل پرستی
مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈلاس میں نسل پرستی کے ایک واقعہ میں سیاہ فام بندوق بردار کی سفید فام پولیس عہدیداروں پر فائرنگ اور پانچ عہدیداروں کی موت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ امریکہ میں نسل پرستی کے بڑھتے واقعات سفید فام اور سیاہ فام کی تشریح کے دوران اگر خون ریزی ہوتی ہے تو یہ امریکہ جیسے سوپر پاور ملک کے قلب پر گہرا زخم ہے۔ امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج آنے تک امریکہ میں سیاسی، سماجی اور معاشی فضاء کیا کیا کروٹ لیتے رہے گی یہ امریکی عوام کے ساتھ ساری دنیا کے لوگ مشاہدہ کریں گے مگر جس طرح کا کلچر فروغ پا رہا ہے وہ خطرناک ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نیم خودکارگن کا حصول حفاظت خوداختیاری کے تحت حاصل کرنا آسان ہوتا ہے وہاں سیاسی کلچر پر ایک منتشر ذہن کی یلغار ہوتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جمعرات کی شب ڈلاس میں ایک نشانہ باز نے پولیس پر فائرنگ کی تو اس واقعہ نے سارے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ سیاہ فام کے لوگوں نے سفیدفام پولیس عہدیداروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیاہ فام افراد کے خاطیوں کو گرفتار کرنے اور سزاء دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ شروع کیا تھا۔ دونوں جانب قتل اور جوابی قتل کے واقعات کی مذمت کی جانی چاہئے۔ افریقی امریکی شہریوں کے ساتھ سفید فام پولیس عہدیداروں کی زیادتیوں کی خبریں بڑھتی جارہی ہیں۔ اس لئے انتقامی کارروائی بھی ہوتی ہے تو ہر دو واقعات کو مسترد کرکے اس طرح کی نسلی تشدد کی مذمت کی جائے تو حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے مگر امریکہ میں اس طرح کے انفرادی واقعات کے ذریعہ نسل پرستی کے خلاف تحریک کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ جب سیاہ فام کے شہریوں کی موت ہوتی ہے تو اس موت کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام نظم و نسق کے خلاف سیاہ فام گروپس میں غم و غصہ فروغ پانا یقینی ہے۔ جب لوگ ناانصافی کاشکار ہوتے ہیں تو وہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ڈلاس اور دیگر شہروں میں مخالف نسل پرستی مظاہرے ہورہے تھے۔ ٹیکساس کے شہر ڈلاس کی پولیس نے مظاہرے کو پرامن بتایا۔ اس طرح کے مظاہرہ اکثر ہوا کرتے ہیں۔ جاریہ سال پولیس کے ہاتھوں 123 سیاہ فام افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کی ایک تاریخ ہے۔ سیاہ فام اقوام کو سفیدفام شہریوں سے ہمیشہ شکایت رہی ہے۔ پولیس کی زیادتیوں کی شکایات کا فوری ازالہ نہیں کرنے اور ناانصافی سے کام لینے پر نفرت کو ہوا مل رہی ہے۔ امریکہ میں نسل پرستی کے ان واقعات پر امریکی صدارتی دوڑ میں شامل دونوں امیدواروں ڈیموکریٹک کی امیدوار ہلاری کلنٹن اور ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے اور یہ واقعات ان دونوں میں سے کسی ایک کے صدر بننے کے امکانات پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کا آئندہ صدر جو بھی ہوگا اس کے لئے سیاہ فام اور سفید فام کا تنازعہ نازک بن جائے گا۔ سفید فام اقوام جب تک سیاہ فام اقوام کا انسانیت کی بنیاد پر احترام نہیں کریں گے امریکی سماج میں ایسے واقعات کا تسلسل برقرار رہے گا۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ کی 53 فیصد سفید فام آبادی سیاہ فام شہریوں کو یکساں حقوق دینے کی حامی ہے لیکن اصل مسئلہ ہیکہ افریقی امریکن اور سفیدفام امریکیوں کی طرز زندگی مختلف ہے۔ اس میں نسل پرستانہ پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ خاص کر اس وقت جب کوئی سفیدفام پولیس عہدیدار سیاہ فام شہری کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور اس کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے تو یہ واقعہ سیاہ فام عوام کو مشتعل کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیاہ فام سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو پولیس فائرنگ میں ہلاک کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے خلاف مظاہروں کے دوران سیاہ فام شخص نے سفید فام پولیس عہدیداروں کو ہلاک کرنے مقصد سے فائرنگ کی۔ جواب میں پولیس کی کارروائی اور اس کے طریقہ کار کو غیرمنصفانہ قرار نہیں دیا گیا مگر سرکاری سطح پر یہ تسلیم کرلیا جانا کہ پولیس کی کارروائی بھی زیادتی تھی تو سیاہ فام گروپ کے غم و غصہ کو کم کرنے میں مدد ملتی۔ تعصب کا شکار یہ امریکی کلچر کو جرائم کی طرف بڑھتے رجحان سے بھی مسائل کا سامنا ہوگا۔ امریکی حکومت خاص لا انفورسمنٹ ادارہ میں جارحانہ طرزعمل رکھنے والے پولیس عہدیداروں کی غیرضروری حوصلہ افزائی کی جائے تو ہلاکتوں کے ایسے غیرضروری واقعات پیش آتے رہیں گے۔ دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی ایسا معاشرہ فروغ پا چکا ہے جہاں ہر کوئی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھاتا ہے لیکن حقیقت میں امریکہ اپنی بندوق کلچر کی ناقص پالیسی کی وجہ سے دن بہ دن غیرضروری طاقت کا مظاہرہ بڑھتا جارہا ہے جو ہر دو طبقات سیاہ فام اور سفیدفام کیلئے خطرناک ہے۔
برطانیہ سے آزادانہ تجارتی معاہدے ضروری
یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو معمولی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لیگرڈے نے کہاکہ اس سال کی معاشی پیداوار یوروپی یونین کے علاوہ دیگر 19 ملکوں میں سست رفتاری کا شکار ہوگی لیکن اس سے یورو زون کی معیشت میں بہتری بھی آئے گی۔ برطانیہ کی علحدگی کے بعد ہندوستان میں معاشی امور غیرمتاثر رہے۔ شیرمارکٹ میں معمولی انحطاط کے بعد اس میں بحال درج کیا جانا خوش آئند تصور کیا جارہا ہے۔ برطانیہ کو ہی اس مسئلہ پر اپنی تجارت اور ایمگریشن انتظامات کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں تاخیر ہوگی اور سرمایہ کاری کی رفتار بھی ماند پڑ جائے گی۔ برطانیہ کی جانب سے جب تک نئے قواعد بنائے نہیں جائیں گے۔ برطانوی معیشت کے بارے میں واضح موقف سامنے نہیں آئے گا۔ ہندوستان میں معاشی شعبہ کو بھی برطانیہ سے بات چیت کرنی ہوگی۔ معاشی تعلقات کی ازسرنو ترتیب کے علاوہ کئی امور پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ برطانیہ چونکہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے والا G-20 ممالک کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ برطانیہ میں یوروپی یونین کے مقابل ہندوستانی سرمایہ کاری کا فیصد زیادہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ سال تک بھی 16.55 بلین پاونڈ کی گڈس اینڈ سرویس خدمات انجام دی گئی تھیں۔ دونوں ملکوں میں اگر آزادانہ تجارت کی فضاء کو فروغ دیا جاتا ہے تو یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی کے بعد کے حالات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا خیال درست ہے کہ یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی کے بعد تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT