Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف خواتین کا سڑکوں پر احتجاج

امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف خواتین کا سڑکوں پر احتجاج

واشنگٹن، 21 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں قریب ہزاروں خواتین مرد حامیوں کے ساتھ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر اتریں. خواتین کا یہ دوسرا مارچ تھا جو کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک ملک گیر شکل دیا تھا۔ٹرمپ کا عہدہ سنبھالنے کا سال مکمل ہونے اور خواتین سے مبینہ دست درازی کے خلاف امریکہ کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا۔ واشنگٹن ،نیو یارک ، شکاگو اور لاس اینجلس سمیت کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ۔ اور ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے ۔ٹرمپ کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ رکنے کو ہی نہیں آتا۔ گزشتہ روز بھی امریکہ کے مختلف شہروں میں لاکھوں لوگ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسخرے کو منتخب کیا ہے تو سرکس کی توقع تو رکھنی ہی ہوگی۔امریکی صدر ٹرمپ اپنے اقتدار کی سالگرہ ہی کیوں نہ منا رہے ہوں مگر ان کے عوام نے اس دن کو یوم احتجاج بنا دیا، واشنگٹن، نیویارک، شکاگو اور لاس اینجلس سمیت ملک گیر احتجاج کے دوران لاکھوں لوگوں خصوصاً خواتین نے امریکی صدر کے خلاف نعرے لگائے ، اس دوران لوگوں نے گلابی کیپس بھی پہنی ہوئی تھیں ، جو ماضی میں خواتین کے ساتھ ان کی مبینہ دست درازیوں کے خلاف احتجاج کا اظہار تھیں۔ٹرمپ کی کابینہ پر طنز کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا کہ اس سے اچھی کیبنٹس تو میں نے دکانوں پر بکتی ہوئی دیکھی ہیں۔ کئی امریکیوں نے اسے جمہوریت کی تباہی قرار دیا۔

خواتین کے خلاف تشددکی مذمت : پوپ
لیما، 21 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشواپوپ فرانسس نے لاطینی امریکی ممالک میں خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس رجحان کو روکے جانے کی اپیل کی۔یہ اطلاع بی بی سی نے دی ہے ۔پوپ نے شمالی شہر تروزلو میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کل کہا کہ خواتین کے تئیں تشدد چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو طاعون کی طرح ہے جس پر روک لگائی جانی ضروری ہے ۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق لاطینی امریکہ کے 25 میں سے نصف ممالک میں خواتین کی ہلاکتوں کے کیس سب سے زیادہ پائے گئے ہیں۔ پوپ نے کہا کہ خواتین پر ہونے والے مظالم کے معاملے اتنے زیادہ ہیں کہ وہ گھروں کی دیواروں میں ہی دب کر رہ جاتے ہیں۔انھوں نے کہا “میں آپ سب سے کہہ رہا ہوں کہ اس بیماری سے ہر طریقے سے لڑا جانا چاہئے جس میں قانونی التزا م بھی شامل ہے اور ایسا کلچر تیار کیا جانا چاہیئے جائے جوہر طرح کے تشدد کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل ہو”۔

TOPPOPULARRECENT