Wednesday , September 26 2018
Home / دنیا / امریکہ میں گن کلچر کے خلاف لاکھوں طلباء کا احتجاج

امریکہ میں گن کلچر کے خلاف لاکھوں طلباء کا احتجاج

’’ہمیں کتابیں چاہئے، بندوقیں نہیں‘‘ جیسے نعروں کیساتھ وائیٹ ہاؤس کے روبرو زبردست مظاہرہ
سینیٹر برنی سینڈرس بھی طلباء کے ساتھ شامل، این آر اے پر تنقیدیں
طلباء نے ENOUGH اور HEART کی شکل میں کھڑے ہوکر دومنٹ کی خاموشی اختیار کی

واشنگٹن ۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی اسکولوں کے طلباء نے بالآخر اپنے ہی ملک میں ’’گن کلچر‘‘ کے فروغ کے خلاف آج واشنگٹن سے لاس اینجلس تک تمام اسکولس میں کلاس کا بائیکاٹ کیا اور بندوق کے استعمال کے خلاف زبردست احتجاج منظم کیا جو فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے دلدوز واقعہ رونما ہونے کے پورے ایک ماہ بعد کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن ایریا اسکولس کے سینکڑوں طلباء کل وائیٹ ہاؤس کے روبرو جمع ہوئے۔ یہ شاید امریکہ کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جہاں کمسن نوجوانوں نے اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا۔ طلباء نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام رکھے تھے جن پر تحریر تھا ’’ہمیں کتابیں چاہئے، بندوق کی گولیاں نہیں، اور انسانوں کا تحفظ کیجئے بندوقوں کا نہیں‘‘ وغیرہ ۔ دریں اثناء ایک 17 سالہ طالب علم برینالیویٹان جو اپنی والدہ کے ساتھ اس احتجاجی ریالی میں شریک تھا، نے کہا کہ ہم امریکی سیاستدانوں کو اب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اب خاموش نہیں رہیں گے۔ پارک لینڈ اسکول میں جو دلسوز واقعہ رونما ہوا وہ اب آخری واقعہ ہونا چاہئے۔ امریکہ کی 50 ریاستوں کے تمام اہم شہروں میں طلباء نے اسی نوعیت کے احتجاجی مظاہرے کئے اور ان 14 مہلوک طلباء اور تین اسٹاف ارکان کو خراج عقیدت پیش کرنے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ یاد رہیکہ ان تمام کا تعلق فلوریڈا کے پارک لینڈ میں واقع مرجوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول سے تھا، جہاں فائرنگ کا دلدوز واقعہ رونما ہوا تھا۔ طلباء کے اس زبردست احتجاج نے شاید امریکی قانون سازوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا کیونکہ کچھ ہی گھنٹوں بعد انہوں نے ملک میں فروع پاتے ’’گن کلچر‘‘ کے قلع قمع کیلئے پہلی بار مؤثر اقدامات کئے۔

دوسری طرف ایوان نمائندگان میں بھی 407-10 کے فرق سے امریکی اسکولس میں تشدد کی روک تھام کیلئے فنڈس کو منظوری دی گئی جیسے سیکوریٹی میں اضافہ، طلباء کے دماغی حالت کی جانچ پڑتال (اسکریننگ) اور ایسے نامعلوم رپورٹنگ طریقہ کار کو متعارف کرنا تاکہ طلباء خود کو درپیش خطرات اور دھمکیوں کی شکایت درج کرواسکیں تاہم کانگریس نے اب تک گن کلچر کو کچلنے کے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے ہیں جس کا مطالبہ عرصہ دراز سے کیا جارہا تھا اور پارک لینڈ اسکول واقعہ کے بعد اس میں شدت پیدا ہوگئی تھی حالانکہ ایسا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے جیسے گن کی فروخت کے پس پشت مقاصد کا جائزہ، اسالٹ ہتھیاروں پر امتناع جبکہ آتشیں اسلحہ کی خریداری کیلئے عمر کی حد مقرر کرنا وغیرہ۔ اس موقع پر ڈگلس ہائی اسکول کے طلباء اپنا یونیفارم زیب تن کئے ہوئے اپنے مہلوک ساتھیوں کی یادگار پر پہنچے اور گلہائے عقیدت پیش کئے اور زاروقطار روتے بھی جارہے تھے۔ نیوجرسی کے چیری ہل ہائی اسکول میں طلباء نے اسکول کے فٹبال گراؤنڈ میں جمع ہوکر ’’دل کی شکل‘‘ بناتے ہوئے مہلوک طلباء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دوسری طرف لاس اینجلس اور دیگر شہروں کے طلباء مختلف اسپورٹس گراؤنڈ پر زمین پر اس انداز میں لیٹ گئے کہ وہ انگریزی کا لفظ ENOUGH (بس، اب بہت ہوچکا) بن گیا۔ واشنگٹن میں طلباء کے احتجاج میں کانگریس کے ڈیموکریٹک ارکان بھی شامل ہوگئے۔ اس موقع پر مقررین نے نیشنل رائفل اسوسی ایشن (NRA) جو ایک طاقتور گن لابی ہے، پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس سے یہ خواہش کی ہتھیاروں کے حصول کے خلاف سخت ترین قوانین وِضع کئے جائیں۔ سینیٹر برنی سینڈرس نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ نوجوانو، تم ہی اس ملک کا مستقبل ہو اور ملک کی قیادت کروگے۔ لوگ گن کلچر سے بیزار ہوچکے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم این آر اے کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں۔ نیویارک میں طلباء نے گن کنٹرول کا رنگ یعنی نارنجی لباس پہن رکھا تھا اور تقریباً 50 اسکولس سے ان کا تعلق تھا جو احتجاج کرنے اسکولس کا بائیکاٹ کئے تھے۔ وہ لوگ زور زور سے نعرے بازی کررہے تھے کہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں۔ کیا اگلی باری ہماری ہے؟ اس موقع پر نیویارک میئر بل ڈی بلاسیو کے پریس سکریٹری ایریک فلپس نے بتایا کہ شہر کے متعدد اسکولس سے تقریباً ایک لاکھ طلباء نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ حالانکہ ’’نیشنل اسکول واک آؤٹ‘‘ کی مدت صرف 17 منٹ مقرر کی گئی تھی یعنی 17 مہلوکین کے لئے فی کس ایک منٹ لیکن ہزاروں طلباء کو 17 منٹ کا احتجاج بہت ہی معمولی معلوم ہوا اور اس کی بجائے انہوں نے دن بھر کیلئے اپنی اپنی اسکولس کا ہی بائیکاٹ کردیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT