Saturday , October 20 2018
Home / اداریہ / امریکہ میں گن کلچر

امریکہ میں گن کلچر

کیکر کا تم بیچ ڈال کر آم کی آس میں بیٹھے ہو
قانون یہی ہے فطرت کا جو بوئوگے سو پائوگے
امریکہ میں گن کلچر
امریکہ میں ایک بار پھر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک سابقہ طالب علم نے اپنے ہی اسکول میں گھس کر بے دریغ فائرنگ کردی اور اس میں 17 اسکولی بچے ہلاک ہوگئے ۔ امریکہ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی اسکول میں یا کسی تعلیمی ادارے ‘ یونیورسٹی یا پب میں فائرنگ ہوئی ہو ۔ اس سے قبل بھی یہاں کئی واقعات پیش آچکے ہیں جہاں ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار افراد نے اچانک ہی بے دریغ فائرنگ کرتے ہوئے درجنوں بے قصور افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ۔ وقفہ وقفہ سے اس طرح کے واقعات امریکہ کی کسی نہ کسی ریاست اور کسی نہ کسی شہر میں پیش آتے رہتے ہیں۔ وقتی طور پر اس طرح کے واقعات پر غم و اندوہ کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور پھر ہر کوئی اپنی مصروفیات میں گم ہوجاتا ہے ۔ خود حکومت امریکہ بھی ایسا لگتا ہے کہ اس گن کلچر کی لعنت کو سنجیدگی سے لینے تیار نہیں ہے اور وہ بھی وقتی طور پر کچھ اقدامات کرتی ہے اور پھر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر چند دن بعد کہیں نہ کہیں کوئی واقعہ اچانک ہی پیش آجاتا ہے اور پھر بے قصور افراد کو موت کی نیند سلادیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے لیکن امریکہ اس طرح کی کسی سنجیدگی سے دور ہی نظر آتا ہے ۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں پیش آنے والے واقعات پر اپنی اجارہ داری جتانے والا ملک امریکہ اس طرح کے واقعات اپنے ہی ملک میںکنٹرول کرنے میں یکسر ناکام ہوگیا ہے ۔ یہاں کبھی سیاہ فام باشندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کہیںایشیائی نژاد باشندوں کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے ۔ کہیں تارکین وطن کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کہیں ساتھی عوام کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات سے امریکی کلچر اور معاشرہ کے کھوکھلے پن کا ثبوت ملتا ہے حالانکہ امریکہ دنیا بھر میں اس طرح کے حملوں اور اموات پر دوسروں کو نصیحتیں کرنے اور دھمکانے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ حالیہ عرصہ میں اس طرح کے حملوں کے کئی واقعات ایک کے بعد دیگرے پیش آتے گئے ہیں لیکن حکومت صرف زبانی جمع خرچ میں ہی مصروف ہے ۔ اس طرح کے واقعات کا تدارک کرنے عملی اقدامات کے معاملہ میں یہ بالکل صفر ہے اور کچھ بھی نہیں کر رہی ہے ۔
جس وقت پاکستان کے شہر پشاور میں اسکول پر حملہ کیا گیا تھا اور درجنوں معصوم بچے وہاں بھی موت کی نیند سلادئے گئے تھے اس وقت امریکہ اور ساری دنیا نے شور شرابہ کیا تھا ۔ جس وقت فلم پدماوت کے خلاف احتجاج کے دوران اسکولی بچوں کی بس پر سنگباری کی گئی تھی اس وقت بھی کافی ہنگامہ آرائی کی گئی تھی لیکن جب خود امریکہ میں خود کار ہتھیاروں اور رائفلوں سے فائرنگ کرتے ہوئے درجنوں افراد کو موت کی نیند سلادیا جا رہا ہے تو اس پر کوئی بھی عملی اقدامات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔خود امریکی حکومت اس معاملہ میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ اس طرح کے واقعات امریکی معاشرہ میں پائی جانے والی بے چینی کی کیفیت اور بے راہ روی کا ثبوت ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر کو سبق دینے کوشاں رہنے والا ملک امریکہ خود اپنے شہریوں کو ایک ضابطہ حیات دینے میں ناکام ہے ۔ اس کا معاشرہ انتہائی درجہ تک کھوکھلا ہوگیا ہے ۔ وہاں انسانی زندگیوں کی کوئی قیمت اور کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے ۔ اس کا زیاں مسلسل ہوتا جا رہا ہے ۔ امریکی شہری گن کلچر کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ مسلسل ہونے والے واقعات اور ان پر ہونے والی تنقیدوں کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ اسکولی بچوں کو اس طرح کے حملوں کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک امر ہے اور اس طرح کے واقعات کا تدارک ہونا چاہئے ۔
حکومت امریکہ کو ایک جامع اور منصوبہ بند پروگرام کے ذریعہ ملک میں گن کلچر اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک اس تعلق سے سماج میں اور عوام میں شعور بیدار نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس طرح کے واقعات کو روکا نہیں جاسکتا اور انسانی زندگیوں کا زیاں ہوتا رہے گا ۔ دنیا بھر میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف امریکہ نت نئی تحدیدات عائد کرتا ہے لیکن خود اس کے شہریوں میں اسکولی بچوں تک کو پوری سہولت کے ساتھ ہتھیار دستیاب ہوتے ہیں ۔ یہ حکومت امریکہ کے ڈوغلے پن اور دوہرے معیارات کی مثال ہے ۔ معصوم اسکولی بچوں کو بلا وجہ ہی فائرنگ کا نشانہ بنانا انتہائی مذموم عمل ہے اور اس کی ہر گوشہ سے مذمت ہونی چاہئے ۔ ایسے واقعات سماج کی بے چینی اور نراج کی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں ۔ اس کی وجوہات کا پتہ چلا کر مستقبل میںایسے واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت امریکہ کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT