Monday , June 25 2018
Home / دنیا / امریکہ میں ہر 90 سکنڈس میں ایک بچہ کا اغواء؟

امریکہ میں ہر 90 سکنڈس میں ایک بچہ کا اغواء؟

واشنگٹن ۔ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جب کسی بچے کی گمشدگی کی خبر آتی ہے تو ذہن میں خود بخود خیال آتا ہے کہ یقینا کچھ برا ہوا ہوگا لیکن بعض اوقات حقیقت اس سے بہت مختلف ہوتی ہے۔امریکہ میں بچوں کے گم ہونے کے بارے میں جو اعداد وشمار ہیں ان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔حال ہی میں واشنگٹن کے ایک ٹی وی چینل نے بچوں کے تحفظ سے متعلق شعور کی مہم کا آ

واشنگٹن ۔ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جب کسی بچے کی گمشدگی کی خبر آتی ہے تو ذہن میں خود بخود خیال آتا ہے کہ یقینا کچھ برا ہوا ہوگا لیکن بعض اوقات حقیقت اس سے بہت مختلف ہوتی ہے۔امریکہ میں بچوں کے گم ہونے کے بارے میں جو اعداد وشمار ہیں ان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔حال ہی میں واشنگٹن کے ایک ٹی وی چینل نے بچوں کے تحفظ سے متعلق شعور کی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر 90 سیکنڈس میں ایک بچہ لاپتہ ہوتا ہے۔پچھلے چند برسوں میں امریکی میڈیا میں یہ اعداد وشمار اکثر سامنے لائے جاتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ من وعین درست ہوں ۔یہ اعداد وشمار بہت پریشان کن ہیں کیونکہ لاپتہ ہونے والے بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے لیکن یہ 90 سیکنڈس والا ہندسہ آیا کہاں سے ہے؟

اس کی بنیاد 2002 میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے کروائی گئی ایک تحقیق ہے۔اس تحقیق کے لئے پولیس اور والدین سمیت دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کی گئیں جس سے معلوم ہوا کہ 1999 میں 797,500 بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی۔اس کے بعد سے اب تک اس بارے میں کوئی بڑی تحقیق نہیں کی گئی لیکن اس تحقیق میں بچے کے گمشدہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟۔اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف نیو ہیمشائر کے پروفیسر ڈیوڈ فینکلہور نے کہا ہے کہ بچوں کے گمشدہ ہونے کے تصور کے بارے میں شک و شبہات پائے جاتے ہیں۔بچوں کے لاپتہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ گھر سے بھاگ گئے ہوں یا وقت پر گھر نہ پہنچے ہوں،

اس طرح کی صورتحال پریشان کن تو ہو سکتی ہے لیکن ایک بچے کے اغوا ہونے سے کافی مختلف ہے۔پروفیسر ڈیوڈ فینکلہور کے مطابق کسی اجنبی کے ہاتھوں اغوا ہونے والے بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔درحقیقت اس تحقیق میں بطور گمشدہ درج آدھے سے زیادہ بچے وہ تھے جن کے بارے میں ان کے والدین نے سمجھا کے وہ لاپتہ ہو گئے ہیں لیکن وہ جلد ہی مل گئے تھے۔اس کے علاوہ ایسے شواہد ملے ہیں کے گزشتہ 13 برس میں اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد سے اس مسئلے میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔2014 میں ایف بی آئی کو 6 لاکھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں زیادہ تعداد 18 سال سے کم عمر افراد کی تھی۔واضح رہے کہ1997 میں تقریباً دس لاکھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں لیکن تب سے ہر سال اس تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔پروفیسر ڈیوڈ فینکلہور کے بموجب ٹکنالوجی سے بچوں کو محفوظ بنانے میں کافی مدد ملی ہے۔سب سے بڑی تبدیلی موبائل فون کا حصول ہے جس کی وجہ سے والدین بچوں سے رابطے میں رہتے ہیں اس لئے گمشدگی کی شکایت اب کم درج ہوتی ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ میں جرائم میں بہت حد تک کمی آئی ہے بچوں کے خلاف جرائم، جنسی جرائم اور قتل جیسے جرائم میں کمی آئی ہے اس لئے کافی حد تک ممکن ہے کہ بچوں کے اغوا میں بھی کمی آئی ہو۔

TOPPOPULARRECENT