امریکہ میں 5 لاکھ ہندوستانیوں کی ملازمت خطرہ میں

انصر عزیز ندوی
ٹرمپ سے گلے تو مل لیا اب 5 لاکھ لوگوں کی ملازمت بھی بچالیجئے مودی جی ! امریکہ میں کام کر رہے پانچ لاکھ سے زیادہ آئیٹی پروفیشنلس پر گھر واپسی کی تلوار لٹک رہی ہے لیکن مودی حکومت امریکہ سے اس سلسلہ میں آنکھ سے آنکھ ملاکر بات کرنے کی ہمت نہیں کر پارہی ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ ہند نژاد ستیہ نڈیلا مائیکرو سافٹ اور سندر پچائی گوگل کے سربراہ ہیں، اس وقت ٹکنالوجی سیکٹر میں کام کرنے والے پانچ لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں پر ملازمت ختم ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ ان لوگوں کو امریکہ سے نکالنے کا حکم مل سکتا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ ایچ 1 بی ویزا ضابطوں میں بدلاؤ کر رہا ہے ۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ ستم ظریفی مزید بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جب امریکی صدر کی بیگم بھی امریکہ سے باہر کی ہوں جنہیں 2001 ء میں امریکہ میں رہنے کا گرین کارڈ ملے محض 16 سال ہی ہوئے ہیں۔ اس کیلئے بھی انہیں 5 سال انتظار کرنا پڑا تھا ۔ حالانکہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے گزشتہ سال ستمبر میں اس ایشو کو امریکہ کے سامنے مضبوطی سے اٹھایا تھا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ ہندوستانی ٹکنالوجی اور سافٹ ویئر اور آئی ٹی سرویس کمپنیوں کے ادارہ نیسکام نے بھی امریکہ میں لابی کرنے والوں پر کروڑوں خرچ کئے لیکن یہ کوشش بھی نا کام ہی ثابت ہوئی۔ ایسے میں نیسکام کو شاید حکومت سے براہ راست بات کرنے میں وقت لگانا چاہئے تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ میں کام کرنے والے سبھی ہندوستانی پروفیشنل سشما سوراج کو ٹیگ کر کے اپنی صورت حال سمجھائیں لیکن سچائی یہ ہے کہ چیلنج بہت سنگین ہے اور اس سے بے حد سنگین مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ ’انڈین ایکسپریس‘میں شائع ایک خبر میں امریکی وزارت داخلہ کے ایک اسفر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی منشا یہ ہے کہ ایسا ماحول بنایا جائے جس سے ہندوستانی پروفیشنل خود ہی امریکہ چھوڑ کر چلے جائیں اور ان کی جگہ امریکیوں کو ملازمتیں مل سکیں۔

اس سے یہ ہوگا کہ نیا ایچ 1 بی ویزا ملنا بے حد مشکل ہوجائے گا اور جو لوگ امریکہ میں رہ کر گرین کارڈ کا انتظار کر رہے ہیں، انہیں گھر واپس جانا ہوگا۔ ان سب باتوں سے معیشت پر تو اثر پڑے گا ہی لیکن پہلے سے آرٹیفیشل انٹلیجنس اور آٹومیشن کے دباؤ میں آئے آئی ٹی اور سافٹ ویئر سرویسز صنعت کی تو اس سے کمر ہی ٹوٹ جائے گی ۔ حکومت کو اچھی اچھی باتوں سے آگے جاکر مضبوطی کے ساتھ ڈپلومیٹک طریقے اختیار کرنے ہوں گے تاکہ ان لاکھوں لوگوں کا مستقبل محفوظ ہوسکے کیونکہ ان کی وطن واپسی سے ان کے مسائل ختم ہونا تو دور مزید بڑھ جائیں گے۔ متبادل کے طور پر حکومت امریکہ سے دفاع سے متعلق اشیاء 4 خریداری بند کرنے کی دھمکی دے سکتی ہے تاکہ امریکہ پر اس محاذ پر کچھ دباؤ بن سکے۔ امریکہ کے اس قدم سے ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر اور ہندوستانی معیشت پر زبردست اثر پڑے گا ۔ اس سیکٹر کا زیادہ تر کاروبار بیرون ملکی آپریشنز سے ہی آتا ہے ۔ امریکہ کے اس قدم سے نہ صرف ہندوستانی ٹیک پروفیشنلس کو گھر واپس لوٹنا ہوگا بلکہ ٹی سی ایس ، انفوسس اور کاگنیجنٹ ٹکنالوجی جیسی ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کا منافع بھی بے حد گھٹ جائے گا۔ یہ کمپنیاں ہیں جن کا کاروبار اور منافع ایچ 1 بی ویزا پر منحصر ہے ۔ اس قدم کا بالواسطہ اثر ہندوستانی معیشت کو پہنچے گا اور بڑے نقصان سے بچنا مشکل ہوگا ۔ ہندوستان میں بیرون ممالک سے آنے والا کل پیسہ تقریباً 65 سے 68 ارب ڈالر ہے جس میں سے تقریباً 10 ارب ڈالر امریکہ سے ہی آتا ہے ۔ اس میں بھی بڑا حصہ ایچ 1 بی ویزا ہولڈر سے آتا ہے ۔ وسط مشرقی میں تیل معیشت میں سستی کے سبب 2016 ء میں بیرون ممالک سے آنے والے پیسے میں پہلے ہی 5 فیصد کی کمی ہوچکی ہے ۔ امریکہ کے حالات کے بعد تو یہ مزید خطرناک شکل اختیار کرلے گی۔ امریکہ سے لوٹے کچھ پروفیشنلز کو گھریلو کمپنیوں میں جگہ دی جائے گی جس کے سبب یہیں کام کرنے والے لوگوں پر ملازمت سے ہٹائے جانے کا خطرہ منڈ لائے گا۔ ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر کی حالت یوں بھی کوئی بہت اچھی نہیں ہے ۔ اس سیکٹر میں تقریباً 40 لاکھ لوگ جڑے ہوئے ہیں اور آئندہ تین سال تقریباً 6 لاکھ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہونے کا خطرہ ہے ۔ ایسی صورت میں ایچ 1 بی ویزا کے سبب آئی ٹی کمپنیوں کے منافع میں کمی اور پانچ لاکھ پروفیشنلز کی گھر واپسی سے پورے سیکٹر کی حالت خستہ ہوجائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ حالت اچانک پیدا ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ تقریباً ایک سال قبل برسر اقتدار ہونے کے ساتھ ہی ان کا امکان ظاہر کیا جانے لگا تھا لیکن ہندوستانی سفیر اس ایشو پرہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے ۔ ستمبر 2017 ء میں وزیر خارجہ سشما سوراج کی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے ساتھ ملاقات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا ۔ میڈیا رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ گزشتہ سال جون میں ملاقات ہوئی تھی تو ایچ 1 بی ویزا کا ایشو بات چیت کا حصہ ہی نہیںتھا ۔

بعد میں سشما سوراج نے صفائی پیش کی کہ ایچ 1 ویزا پر دونوں لیڈروں کے درمیان بات ہوئی تھی لیکن یہ نہیں پتہ چل پایا کہ یہ بات چیت مودی اور ٹرمپ کے گلے ملنے سے پہلے ہوئی تھی یا بعد میں۔ سشما سوراج نے وزیراعظم کی موجودگی میں راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر ہورہا ہے کہ وزیراعظم مودی نے کامیابی کے ساتھ ٹرمپ کو یہ احساس دلایا کہ ہندوستانی پروفیشنلز کا امریکی معیشت کو مضبوط بنانے میںاہم کردار رہا ہے لیکن ان کے بیان میں ایچ 1 بی ویزا کا تذکرہ نہیں تھا ۔ یہ درست ہے کہ امریکہ اپنی پالیسیاں بنانے کیلئے آزاد ہے لیکن حکومت ہند کی ذمہ داری ہے کہ ان پالیسیوں میں وہ ملک کے مفاد کا دفاع کرے اور وہاں مقیم ہندوستانیوں کے مفاد کو بھی دیکھے ۔ مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت امریکہ کے ساتھ اس ایشو پر ٹکراؤ نہیں کرنا چاہتی، یہاں تک کہ وہ اسے مضبوطی کے ساتھ اٹھانے میں بھی ڈرتی ہے ۔ جہاں تک امریکی صدر ٹرمپ کا سوال ہے ، وہ ’’بائی امریکن ، ہائر امریکن‘ کی پالیسی اختیار کرسکتے ہیں لیکن وہ ہمیں امریکی مصنوعات نہ خریدنے سے روک نہیں سکتے ۔ حال ہی میں اسپائس جیٹ نے امریکی کمپنی بوئنگ سے طیارہ خریدنے کا 22 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے ۔اس معاہدے کے سبب امریکہ میں 1.32 لاکھ بڑی تنخواہ والی ملازمتیں پیدا ہوں گی ۔ حکومت ہند بھی تقریباً 8 ارب ڈالر کے سودے میں امریکہ سے اوینجر پریڈیٹر ڈرونس خریدنے والی ہے ۔ ڈپلومیسی کا پرانا اصول ہے کہ بین الاقوامی تعاون دو طرفہ ہوتا ہے اور گلے ملنے سے صرف تصویریں تو اچھی بنتی ہیں، ڈپلومیسی نہیں۔ اس لئے ضرورت آنکھیں دکھاکر اپنا مفاد حاصل کرنے کی ہے لیکن کیا مودی حکومت ایسا کرے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT