Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / امریکہ و دنیا بھر میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا عزم : بارک اوباما

امریکہ و دنیا بھر میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا عزم : بارک اوباما

16 جنوری 2016 یوم مذہبی آزادی ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو اور پاکستان و بنگلہ دیش میں ہندووں کو خطرات ‘ امریکی عہدیدارکا بیان
واشنگٹن 16 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر بارک اوباما نے آج اس عہد کا اظہار کیا کہ وہ اندرون ملک اور بیرون ملک بھی مذہبی اقلیتوںکا تحفظ کرینگے ۔ اس دوران امریکہ کے ایک اعلی عہدیدار نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور بنگلہ دیش و پاکستان میں ہندووں کو خطرات کا سامنا ہے ۔ اوباما نے 16 جنوری 2016 کو یوم مذہبی آزادی منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذہبی آمادی کا عزم رکھتے ہیں اور اس کے نتیجہ میںبے مثال مذہبی ثقافت اور مذہبی عمل کی آزادی حاصل ہوئی ہے ۔ تاہم اس ان اصولوں پر خود ہی عمل نہیں ہوسکتا ۔ اس کے برخلاف انہیں ہر نسل کی جانب سے ان کے تحفظ اور ان پر عمل آوری کیلئے عزم کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ خاص طور پر یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ عبادتگاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ بچوں اور بڑوں کو محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے حملوں اور تشدد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اوباما نے اپنی تقریر میں حالانکہ کسی ملک کا حوالہ نہیں دیا ہے تاہم کہا کہ ان کا انتظامیہ ساری دنیا میں مذہبی آمادی کو فروغ دینے کیلئے کام کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک وسیع اتحاد کے ساتھ ان کے خلاف کام کر رہے ہیں جنہوں نے مذہبی اقلتیوں کو ناقابل بیان تشدد اور مسائل کا شکار نبایا ہے اور ہم مذہبی اور دوسرے قائدین کو مجتمع کر رہے ہیں تاکہ نشانہ بننے والی مذہبی برادریوں کا تحفظ اور دفاع کیا جاسکے۔ مذہبی عمل کو روکنے جیسی نا مناسب تحدیدات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر امریکہ نے کہا کہ ساری دنیا میںمختلف حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر عقیدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی مذہبی آزادی کو فروغ دیا جاسکے ۔ اوباما نے کہا کہ تمام افراد کو اپنے اپنے مذہبی عقیدہ پر بلا خوف وخطر اور آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی آزادی ملنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان افراد کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے ‘ اذیتیں دی گئی ہیں یا پھر ان کے عقیدہ اور مذہب کی وجہ سے ان کا قتل کیا گیا ہے ۔ ہمیں ایسی پالیسیوں کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے جن سے لوگوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہمارے اپنے قانون ‘ پالیسیوں یا عمل میں بھی کسی مذہبی عقیدہ سے امتیاز ہوتا ہے تو اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت ایک قوم کسی تامل کے بغیرہ وہ یہ کہتے ہیں کسی ایک مذہب پر حملہ در اصل ہر مذہب پر حملہ کے مترادف ہے اور ہمیں سب کیلئے مذہبی آزادی کو فروغ دینے کیلئے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے ۔ اس دوران بیورو آف ڈیموکریسی ‘ ہیومن رائیٹس و لیبر برائے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں مشرقی ‘ جنوبی و وسطی ایشیا کیلئے مذہبی اقلیتوں پر خصوصی مشیر کناکس تھامیس نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور بنگلہ دیش و پاکستان میں ہندووں کو خطرات اور دھمکیوں کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی پر تحدیدات کے رجحان میں جو اضافہ ہوا ہے وہ ایک بحران ہے جو ساری دنیا میں پیدا ہو رہا ہے ۔ اس سے مذہبی اقلیتوں کو خطرات درپیش ہو رہے ہیں۔ یہ خطرہ ساری دنیا میں مختلف برادریوں کو درپیش ہو رہا ہے کیونکہ ہر ایک مذہبی عقیدہ کسی مقام پر اقلیت میں ہے ۔ اوباما نے کہا کہ اندرون ملک ان کا انتظامیہ مذہبی فراخدلی پر عمل آوری اور سیول حقوق قوانین پر عمل کرنے کوشش کر رہا ہے جس کے نتیجہ میں مذہبی آزادی کا تحفظ ہوتا ہے ۔ اس قانون کے ذریعہ ملازمین کو بھی مذہبی امتیاز سے بچایا جاتا ہے اور کام کاج کے مقام پر مذہبی عمل کی واجبی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے ۔ بارک اوباما نے کہا کہ ہم مذہبی برادریوں کے حقوق کی بالادستی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ جن کو سماج نے فراموش کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا انتظامیہ طلباکو بھی ان کے مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور ہراسانی سے بچانے کیلئے جدوجہد کرتا رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT