Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / امریکہ ‘ پاکستان کو F – 16 لڑاکا طیارے فروخت کرے گا

امریکہ ‘ پاکستان کو F – 16 لڑاکا طیارے فروخت کرے گا

اوباما انتظامیہ کا فیصلہ ۔ امریکی کانگریس کو اطلاع دیدی گئی ۔ ریپبلیکن و ڈیموکریٹ قانون سازوں سے شدید مخالفت کا امکان
واشنگٹن 13 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) اوباما انتظامیہ نے آج کہا کہ اس نے نیوکلئیر صلاحیت کے حامل آٹھ F-16 لڑاکا جیٹ طیارے پاکستان کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مالیت جملہ 700 ملین ڈالرس کی ہوسکتی ہے ۔ اوباما انتظامیہ کی اس تجویز ریبپلیکنس کے غلبہ والی کانگریس میں مخالفت ہوسکتی ہے ۔ ریپبلیکن و ڈیموکریٹک پارٹی کے بااثر قانون سازوں کی شدید مخالفت کے باوجود امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کو مطلع کیا کہ وہ ایک بیرونی فوجی فروخت کو منظوری دینے کا عہد رکھتا ہے ۔ یہ فوجی فروخت حکومت پاکستان کیلئے ہے تاکہ اسے F-16 بلاک 52 طیارے ‘ آلات ‘ ٹریننگ اور دوسری مدد فراہم کی جاسکے ۔ ڈیفنس سکیوریٹی کوآپریشن ایجنسی نے کہا ہے کہ اس معاملت کی جملہ لاگت 699.4 ملین ڈالرس ہوسکتی ہے ۔ ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ فروخت سے امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد اور قومی سلامتی کے تقاضوں کی تکمیل بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ فروخت در اصل جنوبی ایشیا میں ایک اہم شراکت دار ملک کی سکیوریٹی میں بہتری میں معاون ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں مستقبل میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس کے نتیجہ میں علاقہ میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔ پنٹگان نے کہا کہ مجوزہ فروخت سے پاکستان خطرات سے بہتر انداز میں نمٹ سکے گا ۔ یہ اضافی F-16 طیارے ہرطرح کے موسم میں ‘ دن کی روشنی نہ رہنے کے باوجود خود حفاظت اور علاقہ کی نگرانی کی صلاحتیں رکھتے ہیں ۔اس سے انسداد دہشت گردی و تخریب کاری کاموں میں پاکستان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا ۔

ایسی کارروائیوں کو جاری رکھنے پاکستان ائر فورس کو دستیاب طیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ۔ اس معاہدہ کی رو سے پاکستان کو ماہانہ تربیتی ضروریات کی تکمیل بھی عمل میں لائی جائیگی ۔ پاکستان کو ان اضافی طیاروں کو اپنی ائر فورس میں شامل کرلینے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ دفاعی سکیوریٹی تعاون ایجنسی نے کہا کہ اس امکانی فروخت کی اطلاع قانونی طور پر دینی ضروری ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فروخت یقینی ہوگئی ہے ۔ اوباما انتظامیہ کی جانب سے کانگریس کو اس فروخت کی جو اطلاع دی گئی ہے وہ کئی بااثر قانون سازوں کی شدید مخالفت کے باوجودد ی گئی ہے ۔ جاریہ ہفتے کے اوائل میں سینیٹر باب کارکر نے سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے تحریر کیا تھا کہ وہ ایسے کسی فیصلے کو روک دینگے ۔ یہ نئی تجویز اب امریکی کانگریس سے رجوع ہوگی

جس کو ایک مہینے کے اندر اس پر فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کسی اعتراض کی صورت میں یہ عمل طوالت اختیار کرسکتا ہے اور پیچیدہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس مجوزہ فروخت پر کانگریس میں مباحث ہونگے اور رائے دہی ہوگی ۔ عموما اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہوتی جیسی کسی بڑے ہتھیاروں کی فروخت کی صورت میں ہوتی ہے ۔ کانگریس کے قائدین اور انتظامیہ کا عملہ کسی اتفاق رائے پر پہونچنے کیلئے مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ کانگریس کے رکن میٹ سلمون نے جو ایوان کی خارجی امور کمیٹی کی ایشیا پیسیفک سب کمیٹی کے صدر نشین ہیں 10 فبروری کو ایک مکتوب صدر بارک اوباما کو روانہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کے اعلی صلاحیتوں والے لڑاکا طیارے پاکستان کی فوج کو فراہم کرنا انتہائی مسائل پیدا کرسکتا ہے کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ دہشت گردوں کے تشدد سے پاکستانی فوج کے قریبی روابط ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کی جانب سے یہ طیارے ہندوستان سے کسی تصادم کی صورت میں نیوکلئیر ہتھیار منتقل کرنے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان کو ان طیاروں کی فروخت کی مدافعت کی اور کہا کہ حکومت امریکہ کا فیصلہ درست ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان F-16 لڑاکا طیاروں کی پاکستان کو فروخت کی مکمک تائید کرتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم پاکستان کی انسداد دہشت گردی و انسداد تخریب کاری کاوشوں کی حمایت کرتا ہے ۔ اب تک پاکستان نے اس ضمن میں بہتر کام کیا ہے ۔ عہدیدار کا ادعا تھا کہ پاکستان کی ایسی کوششوں کے نتیجہ ہی میں دہشت گردوں کی اپنی سرگرمیوں کیلئے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کی صلاحیتں کم ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT