Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / امریکہ کولمبس کی نہیں عربوں کی دریافت

امریکہ کولمبس کی نہیں عربوں کی دریافت

محمد ریحان
امریکہ کی دریافت کے بارے میں کئی ایک نظریئے پیش کئے جاتے ہیں اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امریکہ کو سب سے پہلے کولمبس نے دریافت کیا بعض مورخین و ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ دراصل عربوں کی دریافت ہے۔ عربوں نے ہی سب سے پہلے امریکہ کو دریافت کیا۔ حال ہی میں سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک پروفیسر نے یہ کہہ ان لوگوں کو ایک نئی فکر دی ہے جو امریکہ کی دریافت پر کولمبس کے سرباندھتے ہیں۔ اس پروفیسر کے مطابق کولارائیڈو کے پہاڑوں پر جو کندہ کاری کے نمونے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ہی امریکہ سب سے پہلے پہنچے۔ اس ضمن میں پروفیسر سلمان الدیب مزید کہتے ہیں کہ عام تاثر یہی ہے کہ 15 ویں صدی میں کرسٹوفر کولمبس کی امریکہ آمد سے کافی عرصہ قبل ہی عربوں نے امریکی براعظم دریافت کرلیا تھا۔ سلیمان الدیب ریاض میں واقع کنگ سعود یونیورسٹی میں قدیم زبانوں کے پروفیسر اور کنگ فیعل سنٹر فار ریسرچ اینڈ اسٹڈیز کے محقق ہیں ان کے خیال میں براعظم امریکہ کی دریافت ثمودیہ عرب قبائل نے کی اور یہ کولارائیڈو کے اس فوجی اڈہ سے ثابت ہوتا ہے جس پر ثمودیہ قبائل کی طرز پر کندہ کاری کی گئی ہے۔ اپنے آن لائن انٹرویو میں الدیب نے بتایا کہ وہ ان 15 لوگوں میں شامل تھے جنہیں ثمودیہ عربیہ میں پائی گئی کندہ کاری کے بارے میں تبادلہ خیال کے لئے دنیا کے مختلف ملکوں سے دعوت دی گئی تھی۔ اس طرح کی کندہ کاری یا نقش نگاری جزیرہ نما عرب میں پائی گئی اور بتایا جاتا ہے کہ قوم ثمود کے تاریخی آثار مملکت سعودی عرب باجزیرۃ العرب میں موجود ہے اور مملکت میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تقریباً تین ہزار سال سے کندہ کاری کی جارہی ہے۔ پروفیسر سلیمان الدیب کے مطابق امریکہ کے کولارائیڈو میں موجود عرب ثمودیہ کی کندہ کاری یا نقش نگاری کو پڑھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ نقاشی یا تحریریں زندگیوں، مذہب غذاء اور مشروبات کی شکل میں ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ سے جو متن بھیجا گیا وہ دسویں صدی کا ہے۔ اس کا سعودی عرب میں پائے جانے والے غاروں کے مکانات پر کی گئی کندہ کاری سے تقابل کیا گیا۔ یہ کندہ کاری تین ہزار برس قبل کی گئی۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ امریکہ کو سب سے پہلے 1492 میں کرسٹوفر کولمبس نے دریافت کیا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہیکہ وہ ایک بحری مہم جو تھا بحری سفر کا اسے جنون کی حد تک شوق تھا۔ 1451 میں اٹلی میں پیدا ہوا کولمبس اسپین کے عیسائی حکمرانوں کی ملازمت میں رہا اور اپنے شوق کی تکمیل کا سامان کرتا رہا اس دوران ملکہ ازابیلا اور فرٹینیڈ نے کولمبس کو چھوٹے بحری جہاز عطا کئے اور ان جہازوں کے ذریعہ ہی اس نے 1492 میں امریکہ دریافت کیا۔ مغربی مورخین اور ماہرین کے مطابق کولمبس کی جانب سے امریکہ دریافت کرنے اور اس کی دیگر دریافتوں کے نتیجہ میں مہم جوئی اور نوآبادیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا اور تاریخ کا رخ تبدیل ہوکر رہ گیا۔ امریکہ کی دریافت کے بارے میں ایک اور نظریہ یہ ہے کہ کولمبس کی امریکہ آمد سے قبل ہی ورکنگ لیف ایئریکسن 1002 قبل مسیح کے قریب شمالی امریکہ پہنچ چکا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT