امریکہ کو ایران سے داعش کے خلاف اہم کردار کی توقع

واشنگٹن؍ دمشق۔ 21؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران داعش کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے کہا کہ تہران کی فوجی اتحاد میں شمولیت ضروری نہیں ہے، اتحاد میں شامل ہوئے بغیر بھی ایران مدد کر سکتا ہے۔ 24 گھنٹوں میں 66 ہزار شامی کرد ترکی میں داخل ہو گئے۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے اِرادہ ظا

واشنگٹن؍ دمشق۔ 21؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران داعش کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے کہا کہ تہران کی فوجی اتحاد میں شمولیت ضروری نہیں ہے، اتحاد میں شامل ہوئے بغیر بھی ایران مدد کر سکتا ہے۔ 24 گھنٹوں میں 66 ہزار شامی کرد ترکی میں داخل ہو گئے۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے اِرادہ ظاہر کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تعاون حاصل کر نے کے لئے اگلے ہفتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں داعش کے خلاف مقدمہ پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے دو ممالک کے علاقوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے، لیکن یہ اکیلے امریکہ کی لڑائی نہیں ہے۔ 300 ترک کرد جنگجو ترکی کی سرحد عبور کرکے شام میں داخل ہوگئے ہیں۔ شام کی شمالی سرحد کے نزدیک شامی کردوں سے لڑائی میں داعش کے 18 جنگجو مارے گئے جب کہ آئی ایس کی جانب سے اغواء کئے گئے 49 ترک باشندوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ خارجہ امریکہ جان کیری نے کہا کہ تہران امریکہ کی زیر قیادت قائم اتحاد میں شامل ہوئے بغیر بھی دولت اِسلامیہ کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں قائم ہونے والے فوجی اتحاد میں شمولیت کے لئے مدعو نہ کئے جانے کے باوجود دولت اِسلامیہ کو نکال باہر کرنے میں ایران مدد کر سکتا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارہ کے مطابق مذہبی رہنما خامنہ ای نے کہا کہ مجھے ایسے کسی ملک کے ساتھ تعاون کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جس کے ہاتھ گندے اور اِرادے تاریک ہوں۔ وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہوائی حملوں سے دولت اِسلامیہ کو تباہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 66 ہزار شامی کرد ترکی میں داخل ہو گئے ہیں، ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان کرتلموس نے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک دن میں شام سے 45 ہزار کرد ترکی میں داخل ہوئے ہیں۔

پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ وہ دولت اِسلامیہ کی ظالمانہ کارروائی کے خوف سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ دولت اِسلامیہ کے جنگجوؤں کی شمالی علاقوں میں پیشرفت کے سبب گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریبا 66 ہزار شامی پناہ گزین سرحد عبور کرکے ترکی پہنچے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر شامی کرد نسل سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔ ترکی نے جمعہ کو شام سے ملحق اپنی سرحد کو ان شامی پناہ گزینوں کے لئے کھول دیا جو دولت اِسلامیہ کے حملوں کے خوف سے کوبانی شہر کو چھوڑکر ترکی میں داخل ہورہے ہیں۔ اقوام متحد کی پناہ گزین ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ امدادی کوششوں میں اضافہ کر رہی ہے، کیونکہ مزید ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف تین سال سے جاری بغاوت کے نتیجہ میں شام اور عراق سے متصل ملک ترکی میں اب تک 8 لاکھ 47 ہزار سے زیادہ پناہ گزین قیام پزیر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT