Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / امریکہ کو خطرہ کا کوئی واضح اور قابل اعتبار ثبوت نہیں

امریکہ کو خطرہ کا کوئی واضح اور قابل اعتبار ثبوت نہیں

امریکی عوام سے چوکس رہنے صدر امریکہ بارک اوباما کی اپیل
واشنگٹن /18 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)  صدر امریکہ بارک اوباما نے کہا کہ فی الحال امریکہ کو دہشت گرد خطرہ کے امکان کی کوئی واضح اور قابل اعتبار اطلاع دستیاب نہیں ہوئی ہے، تاہم انھوں نے ابنائے وطن سے اپیل کی کہ چوکس رہیں۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال ہمارا محکمہ سراغ رسانی اور ماہرین انسداد دہشت گردی کے پاس کوئی واضح اور قابل اعتبار اطلاع وطن پر حملے کے بارے میں نہیں ہے۔ کل اعلی سطحی امریکی صیانتی عہدہ داروں کے ایک اجلاس کے بعد صدر امریکہ نے ورجینیا میں قومی انسداد دہشت گردی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو چوکس رہنا ضروری ہے۔ ہم پیغام دے رہے ہیں کہ اگر امریکہ کو نشانہ بنایا جائے تو کوئی محفوظ پناہ گاہ دہشت گردوں کو دستیاب نہیں ہوگی۔ ہم ان کا پتہ چلائیں گے اور اپنی قوم کا دفاع کریں گے۔ اوباما کا یہ تبصرہ کیلیفورنیا میں پاکستانی نژاد جوڑے کی اندھا دھند فائرنگ میں 14 افراد کی ہلاکت کے پیش نظر اہمیت رکھتا ہے۔ اوباما نے کہا کہ دہشت گردی میں چھوٹے گروپس یا افراد بھی ملوث ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ایسے حملوں کا انسداد مشکل ہوگا، تاہم مزید کہا کہ خطرہ کا سامنا کرنے کے لئے ہم تیاری کر رہے ہیں۔ انتظامیہ ہر ممکن کوشش کرے گا،

تاکہ دہشت گردوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جائے۔ انھوں نے کہا کہ تین محاذوں پر ملک کی حفاظت کرنے کی وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کردی گئی ہے۔ اس کے قائدین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ہمارے حلیف دولت اسلامیہ کو پسپا کرنے کے لئے زمینی جنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک بشمول یوروپی شراکت دار غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی آمد کا انسداد کریں۔ یہ دہشت گرد شام اور عراق دونوں جگہ سے آسکتے ہیں۔ ہمارے ممالک میں داخل ہوسکتے ہیں۔ آنے والوں کے لئے حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کردی گئی ہے، جو ویزا معافی پروگرام کے تحت کی گئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ساتھ تعاون کرکے مزید بہتری پیدا کی جا رہی ہے۔ بارک اوباما نے کہا کہ امریکہ کو آنے والے پناہ گزین خود بھی دہشت گردی کے متاثرین ہوسکتے ہیں، لیکن انھیں آمد پر شدید جانچ سے گزرنا ہوگا۔ صدر امریکہ نے کہا کہ ان کی بائیو میٹرک جانچ کی جائے گی اور دو سال تک وہ زیر نگرانی رہیں گے۔ انھوں نے حکم دیا ہے کہ منگیتر ویزا پروگرام پر نظر ثانی کی جائے، جس کے تحت سان برنارڈینو کی خاتون دہشت گرد ملک میں داخل ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT