Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / امریکہ کو پاکستان حکومت کے مستقبل پر خدشہ، ٹلرسن ۔ آصف بات چیت

امریکہ کو پاکستان حکومت کے مستقبل پر خدشہ، ٹلرسن ۔ آصف بات چیت

WASHINGTON, OCT 4 :- U.S. Secretary of State Rex Tillerson (R) shakes hands with Pakistan's Foreign Minister Khawaja Muhammad Asif before their meeting at the State Department in Washington, U.S., October 4, 2017. REUTERS-30R

واشنگٹن، 5 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے حکومت پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کا خواہاں ہے ۔یہاں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے ۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات نے آپ کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ امریکہ کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے تو اس کے جواب میں ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ‘جی ہاں، مجھے یقین ہے۔ریکس ٹلرسن نے پاک امریکہ تعلقات کو خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے جنوبی ایشیا کے لیے جو پالیسی مرتب کی ہے اس میں علاقائی تناظر میں ہی بات کی گئی ہے ۔نئی امریکی پالیسی میں افغانستان کے زاویے سے پاک امریکہ تعلقات پر پاکستان کے خدشات کے ضمن میں بات کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے کہا کہ یہ پالیسی صرف افغانستان کے لیے نہیں ہے بلکہ پاکستان اور اس کے طویل مدتی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے ۔میڈیاکے نمائندے کی جانب سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘ہمیں بھی پاکستان کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ حکومت میں حکومت مستحکم ہوجائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، پاکستان کو پر امن دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اندرونی طور پر پاکستان جن مسائل سے نبرد آزما ہے وہی امریکہ کے بھی مسائل ہیں۔مسٹر ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں اور اسی لیے ہم خارجہ امور سے لیکر دفاعی امور اور انٹیلی جنس کمیونیٹیز کے معاملات کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی سطح پر بھی مواقع پیدا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر نئی ضرب لگاسکتی ہے جس میں پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت کا خاتمہ اور اسے دی جانے والی فوجی اور معاشی امداد میں واضح کمی شامل ہے ۔علاوہ ازیں ذرائع ابلاغ میں یہ بھی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ بناہ گاہوں پر ڈرون حملوں میں تیزی پر بات کی جائے گی۔ تاہم ریکس ٹلرسن نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے معاملات میں شامل ہونے کی ضرورت ہے ۔نئی امریکی پالیسی پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی میں خطے کو زیر غور رکھا گیا ہے جبکہ اس خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان ایک اہم ملک ہے ۔واضح رہے کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکہ کے کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے عوامی سطح پر پاکستان میں جاری سیاسی عدم استحکام سے متعلق بات کی گئی اور ملک میں سیاسی سیٹ اپ کی حمایت کی گئی۔خیال رہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیاء کے لیے نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے ان معاملات کو عوامی اور خفیہ سطح پر اٹھاتی رہی ہے ۔ٹلرسن سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ کو بات چیت کا سلسلے جاری رکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

TOPPOPULARRECENT