Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / امریکہ کو پناہ گزینوں کی تعداد 45000 کردینے پر شدید تنقیدوں کا سامنا

امریکہ کو پناہ گزینوں کی تعداد 45000 کردینے پر شدید تنقیدوں کا سامنا

غیرانسانی اقدام : امریکی سینیٹر ٹام کارپر
پناہ گزین یا تارکین وطن امریکی معیشت کو مستحکم کرتے ہیں
تعداد میں تخفیف درپردہ مسلمانوں پر امتناع کے مترادف : قدیر عباس

واشنگٹن ۔ 28 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آئندہ سال کیلئے پناہ گزینوں کی جس تعداد کو قبول کرنے کا اشارہ دیا ہے اس کی تعداد گھٹا کر 45000 کردی ہے جو 2016ء کے مقابلے نصف ہے جبکہ انسانی حقوق گروپس نے امریکی حکومت کے اس فیصلہ کو غیرانسانی قرار دیا ہے۔ دریں اثناء امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن اس سلسلہ میں کانگریس کے ساتھ بات چیت کریں گے جبکہ دوسری طرف اسی سلسلہ میں صدر کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ پناہ گزینوں کی تعداد کو انفرادی طور پر اب اس طرح پیش کیا گیا ہے : افریقہ 19000، مشرقی ایشیاء 5000، یوروپ اور وسطی ایشیاء 2000، لاطینی امریکہ اور کیربین 1500، مشرقی جنوبی ایشیاء کے قریب 17000۔ دریں اثناء امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکی شہریوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے جس کیلئے نہ صرف صدر امریکہ بلکہ ہر محب وطن امریکی شہری فکرمند ہے۔ 1975ء سے امریکہ نے ساری دنیا سے آنے والے زائد از 3 ملین پناہ گزینوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ انسانی اقدار کے تحفظ کا جہاں تک سوال ہے تو اس سلسلہ میں امریکی قیادت نے بھی اہم رول ادا کیا ہے کیونکہ اس مشن کا سب سے اہم پہلو یہ ہیکہ پناہ گزینوں کی آبادی تشکیل دینے صرف ان ہی لوگوں کو اجازت دی جائے جو حقیقی طور پر اس کے مستحق اور اہل ہیں۔ ایسے لوگوں کیلئے نہیں جو امریکہ کیلئے خطرہ بن جائیں۔ عہدیدار کے مطابق دنیا کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ امریکہ انسانی بنیاد پر جو عطیات دینے میں سرفہرست ہے، صرف گذشتہ سال کا ہی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ امریکہ نے 7 بلین ڈالرس انسانی بنیادوں پر عطیات کی شکل میں تقسیم کردیئے۔ 2017ء میں شامی بحران میں امریکہ کا حصہ 1.4 بلین ڈالرس رہا جبکہ عراقی بحران سے نمٹنے امریکہ نے اب تک زائد از 581 ملین ڈالرس بطور عطیہ دینے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ایسے ممالک جنہیں قحط سالی کا سامنا ہے، ان کیلئے بھی امریکہ نے 2.5 بلین ڈالرس بطور عطیہ دیئے ہیں جبکہ برما میں بے گھر ہونے والوں کیلئے تقریباً 95 ملین ڈالرس کی امریکی عطیات دی گئی ہیں۔ لہٰذا پناہ گزینوں کی تعداد میں تخفیف کے امریکی فیصلہ کی چاروں طرف سے تنقید کی جارہی ہے۔ امریکہ جب اتنا کچھ خرچ کرسکتا ہے تو پھر پناہ گزینوںکی تعداد کے بارے میں کیوں پریشان ہے۔ کیا امریکہ یہاں بھی فراخ دلی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا؟ پناہ گزینوں پر بھی تحدیدات عائد کرنا غیرانسانی فعل ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے بتایا کہ پناہ گزینوں کی تعداد تو 22.5 ملین ہے لیکن حیرت انگیز طور پر عالمی سطح پر جبری طور پر بے گھر کئے گئے افراد کی تعداد 65.6 ملین ہے۔ اس موقع پر سینیئر ٹام کارپر نے بھی امریکہ کے اس اقدام کو غیرانسانی اقدام سے تعبیر کیا۔ امریکہ کے بانیوں نے امریکہ کو دنیا کی قابل رشک جمہوریت بنانے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا کیا جو دراصل تارکین وطن کے ذریعہ آباد کیا جانے والا ملک ہے۔ دنیا میں امریکہ کی آزادی اور جمہوریت کے چرچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں ڈونالڈ ٹرمپ کا پناہ گزینوں کی تعداد میں تخفیف کرنے کا فیصلہ غیردانشمندانہ ہے۔ تارکین وطن دراصل امریکہ کی ترقی میں بھی زبردست رول ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی امید ہیکہ تارکین وطن کا والہانہ استقبال کریں گے۔ ایک ایسے وقت جب دنیا میں پناہ گزینوں کا زبردست بحران جاری ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا پناہ گزینوں کی تعداد میں تخفیف کا فیصلہ چند بدترین فیصلوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔ اس موقع پر CAIR سے تعلق رکھنے والے قدیر عباس نے کہا کہ پناہ گزینوں کی تعداد پر تحدیدات عائد کرنے کا مقصد کچھ اور نہیں بلکہ درپردہ مسلمانوں کی امریکہ آمد پر روک لگانا ہے۔

TOPPOPULARRECENT