Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / امریکہ کو پہلی خاتون صدر کے استقبال کیلئے تیار رہناچاہئے : شیفالی دگل

امریکہ کو پہلی خاتون صدر کے استقبال کیلئے تیار رہناچاہئے : شیفالی دگل

ہلاری وہ تمام صلاحیتوں کی حامل ہیں جو ایک امریکی صدر میں ہونی چاہئے، خاتون ہونا مانع نہیں
واشنگٹن ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک ہندوستانی نژاد مہم جو اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کیلئے کلیدی فنڈ ریزر نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب ایک انتہائی ذہین اور قابل شخص کو اپنے نئے صدر کی حیثیت سے دیکھنے تیار ہے چاہے وہ مرد ہو یا خاتون۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ پہلے خاتون صدر کا استقبال کرنے تیار ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے ہری دوار میں پیدا ہوئیں کشمیری امریکن شیفالی رازداں دگل نے کہا کہ اگر دیانتداری کی بات کی جائے تو میں کیا سوچتی ہوں اس کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ امریکہ کی ’’دل کی دھڑکنیں‘‘ بھی ہیں جنہیں دھڑکنے دینا چاہئے اور یہی دھڑکنیں اہم فیصلہ کریںگی کیونکہ ترقی پسند طرزفکر اور ترقی یافتہ سماج بھی اپنے فیصلے خود کرسکتا ہے۔ شیفالی یوں تو میڈیا کی چکاچوند سے دور ہیں تاہم وہ خاموشی سے اپنا کام کئے جارہی ہیں جن میں ہلاری کلنٹن کیلئے فنڈ ریز کرنا بھی شامل ہے۔ 44 سالہ شیفالی مسان فرانسسکو کی شہری ہیں۔ ان کا ماننا ہیکہ اگر موجودہ صدر بارک اوباما کی میعاد کے اختتام کے بعد کوئی ان کا حقیقی جانشین ہوسکتا ہے تو وہ ہلاری کلنٹن کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ اس لئے نہیں کہ سابق وزیرخارجہ ایک خاتون ہیں بلکہ اس لئے کہ تاریخ کے اس مرحلہ پر ہلاری کلنٹن میں امریکی قیادت کیلئے درکار تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ انتہائی ذہین، قابل اور بھروسہ مند قائدین کو اپنا صدر بنانے میں کبھی پس و پیش نہیں کی اور اس کیلئے امیدوار کی جنس کبھی مانع نہیں رہی۔ شیفالی دگل کلنٹن کیمپین کی نیشنل فائنانس کمیٹی سے مربوط ہیں اور ان کے حامیوں کے منتخبہ گروپس میں سے ایک ہیں۔ 12 اپریل 2015ء سے صدارتی امیدوار کے کیمپین کے آغاز سے ہی اب تک مختلف پرائمریز میں کم و بیش ایک لاکھ امریکی  ڈالرس جمع کئے ہیں۔ شیفالی دگل ڈی این سی ویمنس لیڈر شپ فورم کی نائب صدرنشین بھی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ موجودہ صدر بارک اوباما نے انہیں یونائیٹیڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل کونسل کیلئے منتخب کیا تھا جس کی میعاد 15 جنوری 2018ء کو اختتام پذیر ہورہی ہے۔ شیفالی دگل نے کہا کہ وہ صرف کیمپینس ؍ دیگر معاملات ؍ بورڈس میں سے کسی ایسے موضوع پر کام کرتی ہیں جو انہیں زیادہ دلچسپ نظر آتا ہے یا پھر کوئی معاملہ ان کے دل کو چھو جاتا ہو۔ لہٰذا میرا تمام خالی وقت ملک کی شکرگذاری میں گذر جاتا ہے کہ اس (ملک) نے کیسی کیسی ذمہ داریاں مجھے سونپی جو کسی تحفہ سے کم نہیں۔ شیفالی دگل نوجوانی کے زمانہ میں امریکہ منتقل ہوگئی تھیں اور ان کی مزید پرورش سنسناٹی، اوہائیو میں ہوئی۔ آکسفورڈ، اوہائیو کی میامی یونیورسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا جہاں انہیں ماس کمیونکیشن میں بی ایس حاصل ہوا۔ بعدازاں نیویارک یونیورسٹی سے انہوں نے پالیٹیکل کمیونکیشن میں ایم اے کیا۔ شیفالی نے کہا کہ انہیں امریکہ سے بیحد محبت ہے کیونکہ اگر یہاں محنت اور ایمانداری سے کام کیا جائے تو کوئی بھی کام انجام دینا مشکل نہیں ہے۔ یہاں صلاحیتوں اور ایمانداری کی قدر کی جاتی ہے۔ حالانکہ شیفالی کو سیاست سے بیحد دلچسپی ہے لیکن وہ کسی بھی ایسے عہدہ کیلئے انتخابی میدان میں آنا نہیںچاہتیں جس کے دفتر برداروں کا انتخاب الیکشن کے ذریعہ ہوتا ہو۔ وہ کسی بھی سیاسی عہدہ کی خواہاں نہیں۔

TOPPOPULARRECENT