Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / امریکہ کو پیرس طرز کے حملوں کا کوئی اندیشہ نہیں : ایف بی آئی

امریکہ کو پیرس طرز کے حملوں کا کوئی اندیشہ نہیں : ایف بی آئی

امریکی شہریوں کو خوف سے مغلوب نہ ہونے کی اپیل، حالات حاضرہ پر کڑی نظر، پیرس اور امریکہ میں کوئی مماثلت نہیں
واشنگٹن ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایف بی آئی نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پیرس نوعیت کے حملوں کا کوئی اندیشہ موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دولت اسلامیہ دہشت گرد گروپس کی جانب سے حال ہی میں ایک ویڈیو کے بڑے چرچے ہورہے ہیں جس میں امریکہ کو خبردار کیا گیا ہیکہ پیرس نوعیت کے حملے وہاں بھی ہوسکتے ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائرکٹر جیمس کومی نے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی دھمکی سے واقف نہیں ہیں جس کے ذریعہ امریکہ کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہو اور پیرس حملوں اور امریکہ کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں نے ویڈیوز اور میگزینس کے ذریعہ اپنی تشہیر کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری رکھا ہے تاہم یہ کوئی اتنی اہم بات نہیں ہے۔ البتہ ہم ان تمام ویڈیوز اور میگزینس کے مواد کی جانچ پڑتال ضرور کررہے ہیں۔ آئی ایس کی بجائے امریکہ نے ان افراد پر کڑی نظر رکھی ہے جو آئی ایس کے بہکاوے میں آ کر ان کی مدد کرنے ان کی ہی صفوں میں شامل ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ جاریہ سال ہم نے ایسے متعدد افراد کو آئی ایس میں شامل ہونے سے روکا۔ نوجوانوں کو آن لائن بہلانے، پھسلانے اور بہکانے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیں صرف اسی بات کا اندیشہ ہیکہ ملک بھر میں ایسے کتنے نوجوان ہوں گے جنہیں آن لائن آئی ایس کا حصہ بنایا گیا ہوگا۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ فکر کی بات یہی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے یو ایس اٹارنی جنرل لورٹیا بنچ نے کہا کہ امریکہ کسی بھی دھمکی کو تن آسانی سے نہیں لیتا بلکہ سنجیدگی سے اس کی افادیت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ہم ایسے لوگوں کے خلاف کبھی خاموش نہیں بیٹھتے جو امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم جب بھی دیکھتے ہیں کہ کوئی نیا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے، ہم فوراً اس کا سر کچل دیتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں کم و بیش 70 افراد کے خلاف کارروائیاںکی جاچکی ہیں جنہوں نے آئی ایس کے تئیں ذرہ برابر بھی دلچسپی دکھائی اور جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے کی کوشش کی۔ کومی نے کہا کہ پیرس حملوں کے بعد امریکہ نے متعدد احتیاطی اقدامات کئے ہیں۔ سب پہلے تو ہم نے یہ دیکھا کہ پیرس اور امریکہ میں کیا روابط ہیں اور دوسرے یہ دیکھا کہ ہم اپنے ہی مقامی عوام سے جڑے رہیں۔ ہماری انٹلیجنس سے جڑے رہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمیں بھی اتنا ہی معلوم ہے جتنا کہ انہیں معلوم ہے۔ ایک دوسرے کے تئیں لوگ اندھیرے میں تو نہیں؟ تیسری بات سب سے اہم ہے کہ ہم نے کسی بھی اہم اطلاع کو تن آسانی سے نہیں لیا اور اس کی جانچ پڑتال کی اور یہ سلسلہ آج بھی برقرار ہے اور چوتھی اور آخری بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ہماری زائد از 100 مشترکہ ٹاسک فورسس ہماری تحقیقات کی بنیاد پر ہی کام کررہی ہیں۔ اس طرح ہم اپنے تمام قانونی حربوں کو استعمال کرتے ہوئے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر ہم نے کوئی بھی قابل اعتراض حرکت دیکھی تو ہم فوری وطر پر حرکت میں آجائیں گے۔ انہوں نے تمام امریکی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ڈر اور خوف کو اپنے اوپر غالب آنے نہ دیں۔

TOPPOPULARRECENT