Tuesday , December 11 2018

امریکہ کی جانب بڑھنے والے پناہ گزینوں کے قافلہ پر آنسو گیس چھوڑی گئی

l سرحد کی کراسنگ ٹریفک کیلئے عارضی طور پر بند
l ہم صرف بہتر زندگی گزارنے کے خواہاں، احتجاجی پناہ گزینوں کا ادعا
تیجوانا (میکسیکو) ۔ 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وسطی امریکہ سے ہزاروں کی تعداد میں امریکہ کی جانب بڑھنے والے قافلہ پر امریکی ایجنٹس نے آنسو گیس شیلز داغے کیونکہ انہوں نے ایک فصیل پر چڑھ کر تیجوانا کی سرحد تک پہنچ کر عاجلانہ طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ یو ایس ۔ میکسیکو سرحد پر مصروف ترین کراسنگ سان یدیرو بارڈر پوسٹ ہے جسے شمالی اور جنوبی ٹریفک اور پیدل راہروؤں کیلئے کئی گھنٹوں تک بند کردیا گیا ہے۔ یہ بات سان ڈیگو، کیلیفورنیا کے یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) آفس نے بتائی۔ دوسری طرف پناہ گزین جن کی اکثریت ہنڈوراس سے تعلق رکھتی ہے اور جو ایک کارواں (قافلہ) کی شکل میں ہے، کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل تنقیدوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ وہ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ قانونی طور پر امریکہ آنے والوں کو روکا نہیں جائے گا لیکن غیرقانونی طور پر امریکہ آنے والوں کو روک دیا جائے گا۔ یاد رہیکہ کراسنگ بند کرنے سے صرف تین روز قبل ہی ٹرمپ نے پوری میکسیکو سرحد کو ہی بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پناہ گزینوں نے سیکوریٹی فورسیس پر سنگباری کی تو مجبور ہوکر سیکوریٹی فورسیس کو بھی فائرنگ کرنی پڑے گی۔ دوسری طرف میکسیکو کے وزیرداخلہ الفانسونواریت نے الزام عائد کیا کہ بعض پناہ گزین تیجوانا سرحد کو ’’پرتشدد‘‘ طور پر پار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قافلہ میں شامل دیگر ہزاروں لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے وہ انہیں زخمی کررہے ہیں۔ میکسیکن پولیس کی بھی کثیر تعداد سرحد پر تعینات ہے اور وہ کسی بھی ناگہانی حالات کا سامنا کرنے کیلئے درکار اپنے حفاظتی سازوسامان سے لیس ہے۔ امریکہ میں داخل ہونے کی توقع کے ساتھ تقریباً 5000 پناہ گزین تیجوانا سرحد کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ بارڈر سیکوریٹی فورسیس کا کہنا ہیکہ کراسنگ کو ٹریفک اور پیدل راہروؤں کیلئے صرف عارضی طور پر بند کیا گیا ہے جبکہ کچھ ہی گھنٹوں بعد ٹریفک بحال کردی گئی۔ ان پناہ گزینوں کے قافلہ کے اوپر امریکی فوج کے ہیلی کاپٹرس انتہائی پستی میں اڑان بھر رہے ہیں تاکہ پناہ گزینوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائے جبکہ تقریباً 500 پناہ گزینوں نے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، پُرامن احتجاجی مظاہرہ میں بھی حصہ لیا اور کچھ لوگوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ صرف ایک بہتر زندگی جینے کے خواہاں ہیں تاہم آنسو گیس کے شیلز سے نکلنے والے دھویں نے کئی احتجاجیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا شبہ بھی اپنی دانست میں درست ہی معلوم ہوتا ہے کہ پناہ گزینوں کے اس قافلہ میں متعدد مجرمین اور دہشت گرد بھی شامل ہوسکتے ہیں لہٰذا وہ بھی امریکہ آ کر نہ جانے کونسی تخریبی کارروائیاں انجام دیں، یہ کسی کو پتہ نہیں۔

TOPPOPULARRECENT