Friday , April 20 2018
Home / دنیا / امریکہ کی چین کیساتھ تجارتی جنگ میں شدت

امریکہ کی چین کیساتھ تجارتی جنگ میں شدت

امریکہ کی 106 مصنوعات پر 25% ٹیکس کا نفاذ
چین، تجارتی جنگ اس کے خاتمہ تک لڑتا رہے گا: وزارت خارجہ

بیجنگ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) روس اور امریکہ کے درمیان اگر سرد جنگ کا ایک بار پھر آغاز ہوا ہے تو امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے جہاں دونوں ممالک ’’ستہ پہ ستہ‘‘ کے مصداق ’’ٹیکس پہ ٹیکس‘‘ عائد کرنے کی ضد پر اُڑے ہوئے ہیں۔ چین نے امریکہ کی 106 مصنوعات پر 25% کا نیا ٹیکس نافذ کرنے کا جوابی حملہ کیا ہے جس کی قدر 50 ملین ڈالرس ہوسکتی ہے جن میں طیارے اور کاریں بھی شامل ہیں۔ اس طرح عالمی سطح پر دو بڑی معیشتیں ایک دوسرے کے خلاف تجارتی میدان میں صف آراء ہوگئی ہیں۔ یاد رہے کہ چین نے یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین کی 1300 مصنوعات پر ٹیکس نافذ کرنے کے جواب میں اٹھایا ہے۔ وزارت مالیات نے دریں اثناء ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ چائنیز کسٹمس ٹیرف کمیشن برائے اسٹیٹ کونسل نے امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکہ کی 106 مصنوعات پر زائد ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے جو 14 زمروں میں تقسیم ہیں جن کی قدر 50 بلین ڈالرس لگائی گئی ہے۔ وزارت مالیات نے مزید بتایا کہ ٹیکس کے نفاذ پر عمل آوری اس وقت شروع ہوگی جب امریکہ، چینی اشیاء پر ٹیکس کے نفاذ کا آغاز کرے گا۔ دوسری طرف چین کی وزارت کامرس بھی امریکہ کے اقدام پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے چین کی نمائندگی کا بھی کوئی خیال نہیں کیا اور ایسے ٹیکسس کے نفاذ کا اعلان کردیا جس کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ یہ امریکہ کی خودپرستی کی علامت ہے جس نے یکطرفہ اور خود کے لئے محفوظ تصور کئے جانے والا فیصلہ کیا ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ایک اور ترجمان گینگ شوانگ نے بھی کل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین تجارتی جنگ سے بالکل خوفزدہ نہیں ہے اور وہ اس کے خاتمہ تک جنگ لڑتا رہے گا۔ امریکہ اگر کسی بھی نوعیت کے تجارتی تحفظ کی راہ اپناتا ہے تو پھر ہمارے پاس (چین) بھی اعتماد اور صلاحیت کا فقدان نہیں ہے کہ ہم امریکہ کے خلاف کوئی جوابی اقدام نہ کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT