Sunday , January 21 2018
Home / دنیا / امریکہ یوکرین مسئلہ پر روس کی عالمی مذمت کیلئے کوشاں

امریکہ یوکرین مسئلہ پر روس کی عالمی مذمت کیلئے کوشاں

ماسکو ، 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) روس نے کریمیا کے تنازعہ پر امریکی اور مغربی پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور اس کے ’انجام‘ کی دھمکی دی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران یہ دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور کریمیا کے قائدین کے درمیان خطے کے روس سے الحاق ک

ماسکو ، 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) روس نے کریمیا کے تنازعہ پر امریکی اور مغربی پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور اس کے ’انجام‘ کی دھمکی دی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران یہ دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور کریمیا کے قائدین کے درمیان خطے کے روس سے الحاق کے بل پر دستخط کے فوراً بعد دی گئی ہے۔ ادھر یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ کریمیا میں ان کے ایک فوجی ٹھکانے پر حملے میں ایک افسر ہلاک ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ فبروری میں کریمیا میں روس حامی فوج کے کنٹرول کے بعد سے یہ پہلا ایسا واقعہ ہے جس میں کوئی فوجی ہلاک ہوا ہے۔ یوکرین نے اب اپنے فوجیوں کو اپنے دفاع کیلئے فائرنگ کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائڈن نے روس پر کریمیا پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جان کیری سے لاوروف کی گفتگو کے بعد روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’(کریمیا) جمہوریہ کے شہریوں نے بین الاقوامی قوانین اور اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا جسے روس تسلیم کرتا ہے ‘‘۔ بعد میں جان کیری نے خبردار کیا کہ شمالی یوکرین میں روس کا کوئی بھی حملہ انتہائی غلط ہوگا جتنا کہ میں سوچ سکتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ بات وہاں تک نہیں پہنچے گی۔ منگل کو روسی صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ مغربی پابندیاں جارحیت کے مترادف ہیں اور ماسکواس کا جواب دے گا۔ اس طرح روس اور عالمی برادری کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے بعد مزید تصادم ہو سکتے ہیں۔ دریں اثناء برطانیہ نے یوکرین اور کریمیا کے تنازعہ پر روس کے ساتھ دو طرفہ فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کل ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ نے یہ اقدام یوکرین کے بحران اور اس کے نیم خود مختار علاقہ کریمیا میں روسی مداخلت کے ردعمل میں کیاہے۔ مغربی قوتوں نے اس معاہدے کی مذمت کی ہے اور ہالینڈ کے شہر ہیگ میں آئندہ ہفتے ترقی یافتہ ملکوں کی تنظیم G-7 اور یورپی یونین نے ہنگامی میٹنگ بلائی ہے۔ یوکرین کا بحران گزشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ماسکو حامی صدر وکٹر یانوکووچ نے روس کے ساتھ مضبوط تر رشتے کی حمایت میں یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کو ترک کر دیا تھا اور بعد میں پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں انھوں نے 22 فروری کو ملک چھوڑ دیا ۔ان مظاہروں میں 80 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT