Wednesday , January 24 2018
Home / Top Stories / امریکہ ۔روس فوجی تصادم دانشمندی نہیں

امریکہ ۔روس فوجی تصادم دانشمندی نہیں

واشنگٹن۔2فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) روس کے ساتھ فوجی تصادم میں ملوث ہونا دانشمندی نہیں ہوگی، صدر امریکہ بارک اوباما نے روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سی این این کو اتوار کے ’’ٹاک شو‘‘ کیلئے انٹرویو دیتے ہوئے فرید ذکریا سے کہا کہ امریکی پالیسی روس کو سخت تحدیدات عائد کرنے کی ہے کیونکہ روس نے یوکرین میں جو کارروائیاں کی ہ

واشنگٹن۔2فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) روس کے ساتھ فوجی تصادم میں ملوث ہونا دانشمندی نہیں ہوگی، صدر امریکہ بارک اوباما نے روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سی این این کو اتوار کے ’’ٹاک شو‘‘ کیلئے انٹرویو دیتے ہوئے فرید ذکریا سے کہا کہ امریکی پالیسی روس کو سخت تحدیدات عائد کرنے کی ہے کیونکہ روس نے یوکرین میں جو کارروائیاں کی ہیں اس سے روس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں تحدیدات بالکل منصفانہ ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اُن برے فیصلوں کا نتیجہ ہے جو پوٹن نے اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بالکل انصاف ہوگا کہ روس کی پالیسی روسی معیشت پر کوئی حقیقی برا اثر مرتب نہیں کررہی ہے ۔ تاہم یہ کافی موثر ہے اس سے صدر روس ولادیمیرپوٹن یوکرین میں عدم استحکام پیدا کرنے سے رک گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کریمیا اور یوکرین کے بارے میں پوٹن کے فیصلے کے بعد اُن کی یہ کوئی شاندار حکمت عملی نہیں تھی بلکہ لازمی طور پر انہیں میدان میں احتجاجی مظاہروں اور یانوکووچ کے ملک سے فرار ہونے کے درمیان جب کہ یوکرین میں اقتدار کی عبوری منتقلی کیلئے ایک معاہدہ کیلئے ثالثی کی گئی تھی ، توازن برقرار رکھنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن گذر گئے جب کہ عظیم قوم کا موقف حاصل کرنے کیلئے سرزمینوں پر قبضہ کرنے کا فارمولہ استعمال کیا جاتا تھا ، آج کل ممالک کی طاقت کا پیمانہ اُن کا علم ، مہارتیں اور اشیاء ایجاد کر کے بیرون ملک برآمد کرنے کی صلاحیت اور خدمات و اثر و رسوخ برآمد کرنے صلاحیت ہے ۔ وہ سی این این کے ٹاک شو کیلئے فرید ذکریا کو انٹرویو دے رہے تھے جو کل نشر کیا گیا ۔ صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان کے اچھے تعلقات سے روس کو خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دیوقامت کمیونسٹ ملک کو چھوٹے ممالک جیسے ویٹنام یا فلپائن کو بحری مسائل پر ’’دھمکانا ‘‘ ترک کردیناچاہیئے ۔ اوباما نے نومبر میں اپنے دورہ چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر چین ژی جن پنگ سے اُن کی ملاقاتیں بہت کامیاب رہی ۔ اوباما کے دورہ ہند پر تبصرہ کرتے ہوئے چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ ہندوستان کو مغرب کے قائم کئے ہوئے رقابت کے پھندہ میں نہیں پھنسنا چاہیئے ۔ اس سازش کو امریکہ کی تائید حاصل ہے اور اس کی ایشیاء کیلئے حکمت عملی کی بنیاد ہے اور یہ حکمت عملی صرف کمیونسٹ ملک کے روس کی وجہ سے تیار کی گئی ہے ۔ اوباما نے یقین ظاہر کیا کہ تاریخ کے اس لمحہ میں سب کے لئے کامیابی کا موقع فراہم نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسا کوئی فارمولہ نہیں ہے جس پر عمل کرتے ہوئے قواعد اور معیاروں کا ایک مشترکہ مجموعہ تیار کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی توجہ اپنے عوام کی خوشحالی اور اُن کے حالات کی بہتری پر ہے لیکن ایسا دوسروں کی قیمت پر نہیں کیا جائے گا بلکہ باہمی شراکت داری اور جدوجہد کے نتیجہ میں یہ مقصد حاصل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی سے بات چیت کا مرکزی نکتہ یہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب چین کا پُرامن عروج خود امریکہ کے مفاد میں ہے ۔ اس کا عدم استحکام ، غربت اور انتشار امریکہ کیلئے خطرناک ہوگا ۔ اُن کا انٹرویو سی این این کیلئے فرید ذکریا نے نئی دہلی میں ریکارڈ کیا تھا ۔ صدر امریکہ نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسے پہلو بھی ہیں جن سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان قربت پیدا ہوتی ہے ، خاص طور پر جمہوریت ایک مشترکہ قدر ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کی اقدار اور امنگیں جھلکتی ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارا ملک ایک ایسے طریقہ پر عمل کررہا ہے جس پر چین عمل نہیں کرسکتا، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی عوام بھی ہندوستانی عوام سے قربت محسوس کرتے ہیں ۔ بارک اوباما نے کہا کہ انہیں امریکی معیشت کو بچانے پر فخر ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کو زیادہ طاقتور اور زیادہ خوشحال بنانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے انہیں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT