Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / امریکی اسلحہ عرب ممالک کی جنگوں کو ہو ادے رہا ہے:امریکی اخبار

امریکی اسلحہ عرب ممالک کی جنگوں کو ہو ادے رہا ہے:امریکی اخبار

کراچی۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی اخبار’’ نیویارک ٹائمز‘‘ لکھتا ہے کہ امریکی اسلحہ عرب ممالک کی جنگوں کو ہوا دے رہا ہے۔امریکی خفیہ اداروںکو یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پراکسی وار کی آگ کئی برسوں تک جلے گی، امریکی دفاعی کمپنیاں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ امریکی دفاعی صنعتی حکام نے کانگریس کو بتایا کہ داعش سے لڑنے والے عرب اتحاد

کراچی۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی اخبار’’ نیویارک ٹائمز‘‘ لکھتا ہے کہ امریکی اسلحہ عرب ممالک کی جنگوں کو ہوا دے رہا ہے۔امریکی خفیہ اداروںکو یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پراکسی وار کی آگ کئی برسوں تک جلے گی، امریکی دفاعی کمپنیاں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ امریکی دفاعی صنعتی حکام نے کانگریس کو بتایا کہ داعش سے لڑنے والے عرب اتحاد کی طرف سے چند دنوں میںہزاروں کی تعداد میں امریکی ساختہ میزائل ،بم اور دیگراربوں ڈالر کے فوجی سازوسامان کی درخواستیں موصول ہونے کی توقع ہے۔عرب اتحاد میںسعودی عرب، امارات، قطر، بحرین، اردن اور مصر شامل ہیں۔ امریکی اسلحہ ساز صنعتوں نے عرب ممالک سے اربوں ڈالر کمانے کے لئے اپنے دفاتر مشرق وسطیٰ میں قائم کرنا شروع کردیئے ہیں۔اوباما اسرائیل کی تنقید کو نظر انداز کرکے خلیج فارس کوجدید ہتھیار دینا چاہتے ہیں۔امریکی اسلحے کا ڈھیر لگانے والے عرب ممالک اب انہیں استعمال کر رہے ہیں۔روس کاایرن کو ائیر ڈیفنس دینے سے عرب ممالک امریکی ایف 35لڑاکا طیارے حاصل کریں گے۔ اسرائیل اور عرب ممالک کا ایران کے خلاف اب ڈی فیکٹو اتحاد بن چکاہے۔ اخبار اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ یمن جنگ میں سعودی عرب بوئنگ سے خریدے گئے F-15 لڑاکا طیارے استعمال کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پائلٹ لاک ہیڈ مارٹن کے ایف 16 سے یمن اور شام دونوں ممالک میں بم برسا رہے ہیں۔ جلد ہی امارات اپنے ہمسائے ممالک کی جاسوسی مشن کے لئے جنرل اٹامکس سے پری ڈیٹر ڈرونز کے ایک بیڑے کا معاہدہ مکمل کرنے کی توقع کر رہا ہے۔مشرق وسطی اس وقت پراکسی جنگوں، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف لڑائیوں اور فرقہ وارانہ تنازعات میں گھرا ہے۔ خطے کے وہ ممالک جنہوں نے امریکی فوجی اسلحے کے ڈھیر لگا رکھے ہیں، اب انہیں استعمال کیاجا رہا ہے اور یہ ممالک مزید فوجی ہتھیار چاہتے ہیں۔ اس صورت میں جب پینٹاگون بجٹ کومحدود کردیا گیا اس وقت غیر ملکی بزنس کے خواہشمند امریکی دفاعی کنٹریکٹر کے لئے یہ موقع کاروبار میں تیزی لائے گا۔اس کے ساتھ ہی خطے میں نئے ہتھیاروں کی خطرناک دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔امریکہ نے طویل عرصے سے ایسے فوجی سازوسامان پر پابندی لگا رکھی ہے جن کو امریکی دفاعی فرمیںعرب ممالک کو فروخت کر سکتی ہیں، جس کا مقصد صرف اسرائیل کا خطے میں اپنے روایتی مخالفوں پر فوجی برتری رکھنا ہے۔اسرائیل کی جانب سے چند عوامی اعتراضات کے ساتھ اوباما انتظامیہ چاہتی ہے کہ خلیج فارس میں اعلی درجے کے ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت ا نہیںدی جائے۔امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اسرائیل کے لئے بامعنی خطرے کی نمائندگی نہیں کرتے، وہ ایران کا بامعنی توڑ ہیں۔دفاعی صنعتی تجزیہ کار اور مشرق وسطی کے ماہرین کہتے ہیں کہ خطہ بحران کا شکار ہے، ایک مذہبی فرقہ دوسرے سے برسرپیکار ہے جس سے دفاعی صنعت میںہائی ٹیک ہارڈ ویئر کا اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT