امریکی اسکول میں طالب علم کا چاقو سے حملہ، 20 زخمی

مریسوئل (امریکہ) ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک طالب علم نے جو چاقو سے مسلح تھا، ہائی اسکول میں طلبہ پر اچانک حملہ آور ہوگیا اور کئی افراد کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں تقریباً 20 زخمی ہوگئے جبکہ 4کی حالت انتہائی نازک بتائی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ مشتبہ طالب علم کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور پولیس پوچھ تاچھ کررہی ہے۔

مریسوئل (امریکہ) ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک طالب علم نے جو چاقو سے مسلح تھا، ہائی اسکول میں طلبہ پر اچانک حملہ آور ہوگیا اور کئی افراد کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں تقریباً 20 زخمی ہوگئے جبکہ 4کی حالت انتہائی نازک بتائی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ مشتبہ طالب علم کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور پولیس پوچھ تاچھ کررہی ہے۔

ڈاکٹرس کے مطابق تمام طلبہ کے بچ جانے کی توقع ہے۔ پٹس برگ کے قریب واقع فرینکلن ریجنل ہائی اسکول میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ بتایا جاتا ہیکہ اس طالب علم نے تمام کو چاقو کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ اکثر بھگدڑ کی وجہ سے زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں ایک بالغ شخص بھی شامل ہے۔ تاہم متاثرین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ فوربس ریجنل میڈیکل سنٹر کے ٹراما ڈائرکٹر ڈاکٹر کریس کاوف میان نے بتایا کہ دو زخمیوں کی سرجری کی جارہی ہے جبکہ مزید ایک کی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں کو پیٹ، سینے اور پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ انہوں نے اسے انتہائی خطرناک حملہ قرار دیا۔ فوربس ہاسپٹل میں 7 کمسن طلبہ اور ایک بالغ شخص کی حالت نازک بتائی گئی۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ زخمیوں میں 15 سے لیکر 60 سال تک کے افراد شامل ہیں۔

ایک نویں جماعت کی طالبہ جس کی عمر 15 سال ہے، اسے دوسرے ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ 12 متاثرین کو 4 مختلف ہاسپٹلس میں شریک کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے حملہ میں چاقو کا استعمال کیا لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چاقو کس قسم کی تھی اور یہ بھی فوری طور پر معلوم نہ ہوسکا کہ اس طالب علم نے دوسروں کو حملہ کا نشانہ کیوں بنایا۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ اس نے دیکھا کہ طلبہ اپنے پیٹ کو پکڑے رو رہے تھے کیونکہ حملے کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا۔ یہ بھی نہیں معلوم ہوسکا کہ حملہ آور کو کس طرح روکا گیا۔ تاہم سمجھا جاتا ہیکہ فائر الارم بجانے کے بعد تمام طلبہ اسکول سے باہر نکل گئے۔

TOPPOPULARRECENT