Sunday , June 24 2018
Home / دنیا / امریکی امداد کی معطلی سے پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا نقصان

امریکی امداد کی معطلی سے پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا نقصان

واشنگٹن6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امداد روکنے کے فیصلے سے پاکستان کو تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے جو پہلے سے لگائے گئے تخمینے سے بھی زیادہ ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کو طالبان اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کی وجہ سے امداد روکنے کے اعلان کے بعد پاکستان کو فوجی امداد اور افغان تعاون فنڈ دونوں روک دیے جائیں گے۔اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 2 ارب ڈالرز کی فوجی امداد اور تعاون فنڈ کے روکے جانے کا امکان ہے۔امریکی اعلان کے بعد پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی امریکی فوجی سامان کی ترسیل روک دی گئی ہے جو پاکستان کو جدید عسکری ٹیکنالوجیز تک رسائی دلواتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج تک سامان پہنچانے کے لیے مدد فراہم کرنے پر ایک ارب ڈالر کی مالی امداد کی جاتی تھی۔ذرائع کے مطابق تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تقریباً 2 ارب ڈالرز مالیت کی اس امداد کو روکے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔امریکی حکام پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ امریکی تحفظ اور سلامتی کے لیے اہم تصور کیے جانے والے منصوبوں میں پاکستان کو خصوصی استثنیٰ دیا جا سکتا ہے جس میں ممکنہ طور پر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے نقد رقم کی فراہمی شامل ہے۔تاہم اس کے باوجود ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم اس سے کہیں زیادہ ہے جس کا پہلے تخمینہ لگایا گیا تھا اور یہ اس معاملے پر امریکی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مزید اقدامات کی بات کی جائے تو ہمارے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جس میں پاکستان سے غیر نیٹو اہم اتحادی کا منصب چھیننے اور آئی ایم ایف کے اہم قرضے روکنے سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔دریں اثناء دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سیکیورٹی امداد کو بند کرنا کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ اس سے ملکی معیشت پر کسی بھی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوگے۔پاکستانی نیوز چینل ’’ڈان نیوز‘‘ سے بات کرتے ہوئے امجد شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس امریکی فیصلے کا پہلے سے ہی اندازہ تھا، جہاں تک فوجی تربیت کا تعلق ہے، تو سلالہ حملے کے بعد یہ کام بھی پاکستان نے خود کرنا شروع کردیا تھا، لہذا آج 70 ممالک یہاں سے ہی تربیت حاصل کررہے ہیں۔

امریکہ دغاباز دوست :وزیر خارجہ پاکستان
پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کی جانب سے فوجی امداد پر روک لگانے کے بعد کہا کہ اس کا ہمیشہ سے ہمارے ملک کے تئیں رویہ دغاباز دوست کا رہا ہے ۔مسٹر آصف نے ایک مقامی کیپٹل ٹی وی کودئیے گئے انٹرویو میں کہا، ’’امریکہ کا رویہ کبھی بھی ساتھی یا دوست کا نہیں رہا۔ امریکہ ہمیشہ دغاباز دوست رہا‘‘۔ امریکہ نے کہا ہے کہ جب تک افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان مناسب کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک اسے ملنے والی سیکورٹی امداد پر روک رہے گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے سال پرٹویٹس کے بعد پاکستان کو تمام سیکورٹی ا مداد روکنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کے سخت موقف سے پاکستان کو چین کے اور قریب جانے کا موقع مل سکتا ہے۔

 

ٹرمپ کا فیصلہ امریکی مفاد میں نہیں : نیویارک ٹائمز
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اداریے کے مطابق، پاکستان کسی بھی لمحے امریکہ کی افغانستان تک رسائی روک سکتا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں ٹرمپ کی حمایت کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کو حقیقت کا آئینہ بھی دکھایا۔ نیویارک ٹائمز نے پاکستان کو امریکہ کے لیے مشکلات میں ڈالنے والا اتحادی قراردیتے ہوئے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پاکستان سے دشمنی امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ امریکہ پاکستان کو امداد دیتے ہوئے ایک اتحادی کی طرح ڈیل کرے کیونکہ صرف پاکستان کے تعاون سے ہی امریکہ خطے میں موجود شدت پسندوں سے لڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT