Sunday , November 18 2018
Home / دنیا / امریکی امیگریشن ایجنسی ویزا قواعد کی خلاف ورزی کی مرتکب

امریکی امیگریشن ایجنسی ویزا قواعد کی خلاف ورزی کی مرتکب

H-1B اور H-4
ویزا میں بے ضابطگیوں پر گوگل، مائیکرو سافٹ کی شکایت
واشنگٹن ۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں اس وقت
H-1B
ویزوں کی اجرائی مسدود کئے جانے میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا جارہا ہے جسے ’’ڈرامائی اضافہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے بعد امریکی ایمپلائرس ؍ آجرین جو اعلیٰ سطحی آئی ٹی کمپنیوں جیسے گوگل، فیس بک اور مائیکرو سافٹ کی نمائندگی کرتے ہیں، نے شکایت کی ہیکہ امریکی امیگریشن ایجنسی خود اپنے ضوابط اور اصولوں کے مغائر کام کررہی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر دلچسپ ہوگا کہ
H-1B
ویزا ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلس میں بیحد مقبول ہے جو ایک نان امیگرنٹ ویزا ہے جس کے ذریعہ امریکی کمپنیوں کو یہ اجازت دی جاتی ہیکہ وہ مخصوص شعبوں میں بیرون ممالک کے ماہر ورکرس کو ملازمت دے سکتے ہیں۔ ٹکنالوجی کی مہارت رکھنے والے پروفیشنلس کی آج دنیا کے ہر ملک کو ضرورت ہے اور اسی مہارت سے استفادہ کرنے کیلئے چین اور ہندوستان کے ماہرین کو ملازمت فراہم کی جاتی ہے۔ دریں اثناء کمپیٹ امریکہ نے سکریٹری آف ہوم لینڈ سیکوریٹی کرسٹین نیلسن کو اور یونائیٹیڈ اسٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سرویسس کے ڈائرکٹر فرانسس سیسنا کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ
H-1B
ویزا کے ضوابط میں تین اہم تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں جس نے ویزا کے قانونی موقف کو غیرواضح کردیا ہے اور اب ایجنسی کے طریقہ کار اور پالیسی پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ یکم ؍ نومبر کو تحریر کئے گئے مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ اس غیرواضح صورتحال نے امریکی کمپنیوں اور آجرین کو پس و پیش میں مبتلاء کردیا ہے جو یا تو امریکی شہریوں یا بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ یاد رہیکہ
H-1B
ویزے ایک سال میں صرف 65000 کی حد تک جاری کئے جاتے ہیں اور امریکہ کی ماسٹرس ڈگری یا اس سے بھی اعلیٰ ڈگریوں کے حامل پہلے 20,000 درخواست گزاروں پر
H-1B
ویزوں کی حدود لاگو نہیں ہوتی۔ دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ نے قانون سازوں اور امریکی کارپوریٹ سیکٹر کو یہ تیقن بھی دیا ہیکہ
H-4
ویزوں کی منسوخی کے بارے میں عوام کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اس ویزے کے تحت کسی بیرونی ملک کے شہری کی امریکہ میں ملازمت کے دوران اس کے شوہر یا بیوی کو H-4 ویزا جاری کیا جاتا ہے تاکہ شوہر یا بیوی بھی ملازمت کرتے ہوئے اپنے اخراجات کا بوجھ اٹھا سکیں۔ یہ دراصل بیوی کے لئے شوہر کا تعاون یا اس کے برعکس ہوا کرتا تھا تاہم اس ویزے کی منسوخی سے بھی ہزاروں ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلس کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کے نعرے کے ساتھ
H-4
ویزا کی منسوخی بادی النظر میں صرف امریکی شہریوں کی ملازمتوں کا تحفظ ہی نظر آتا ہے تاکہ بیرونی ورکرس کو ملازمتیں نہ دے کر صرف امریکی شہریوں کو روزگار فراہم کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT