Friday , December 15 2017
Home / اداریہ / امریکی انتخابات اور مسلمان

امریکی انتخابات اور مسلمان

تقسیم نہ ہوجائے، محبت کاسفینہ
طوفاں کہیں، موجیں کہیں، ساحل ہے کہیں اور
امریکی انتخابات اور مسلمان
امریکہ جتنا بڑا سوپر ملک ہے اتنا ہی ان دنوں صدر کے انتخاب کیلئے ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے۔ خاص کر امریکی مسلمانوں اور ماباقی دنیا کے مسلمانوں کیلئے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد کیا صورتحال رونما ہوگی اس پر اندیشوں کا بخار تیز ہوتا جارہا ہے۔ امریکی صدارتی امیدوار ریپبلکن پارٹی ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی ابتدائی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے تعلق سے جس طرح نادانی کے بیانات دیئے تھے اس کا امریکیوں کے ایک بڑے حصہ پر منفی اثر ہوا جس کے نتیجہ میں امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی پہلے سے ہی نفرت کی لہر میں شدت پیدا ہوئی۔ امریکہ کے عوام، دو دن بعد نئے صدر کا انتخاب کرنے والے ہیں۔ اس دنیا کے سوپر پاور ملک کے صدر کا انتخاب اس مرتبہ تجسس سے بھرپور بنادیا گیا ہے۔ مسلمانوں، عالم اسلام، ایمیگرنٹس کے خلاف اپنی پالیسیوں کا اعلان کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ کو اگرچیکہ ہلاری کلنٹن سے پیچھے بتایا جارہا ہے، مگر امریکہ کی سب سے بڑی یہودی لابی نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر بنانے کاعہد کرلیا ہے۔ امریکہ کا یہ الیکشن چند گھنٹوں بعد ختم ہوجائے گا مگر اس کے مضر اثرات برسوں امریکہ کی پالیسیوں کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ امریکیوں کی نصف آبادی کو اس انتخابات کے حوالے سے جو تشویش پیدا ہوئی ہے وہ ان کے روزگار، مالیہ یا معیشت ہے۔ اب ان کیلئے ایک اچھی خبر یہ ہیکہ گذشتہ چند مہینوں سے جو انتخابی مہم کا شور ہورہا تھا اب آئندہ دو دن میں ختم ہوجائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی امریکیوں کے لئے ایک بری خبر یہ ہوگی کہ انتخابی مہم کے دوران دونوں امیدواروں کی جانب سے پھیلائی گئی بے چینی، تجسس اور ہیجانی فضاء امریکیوں کے ذہن کو نقصان پہنچائے گی خاص کر امریکی مسلمانوں کیلئے یہ انتخابات مخالف مسلم مہم پھیلانے کا موجب بنے ہیں بلکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی تقاریر اور ان کی پالیسی اعلانات سے مسلمانوں سے نفرت رکھنے والے امریکیوں کیلئے ایک لائسنس مل گیا ہے جو امریکی معاشرہ میں خوف پیدا کرنے کا کام کررہے ہیں۔ غلطی سے یا قصداً مسلمانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن کی کامیابی سے بھی  امریکی مسلمانوں کا فوری طور پر کوئی بھلا نہیں ہوگا۔ امریکہ میں تقریباً 33 لاکھ مسلمان رہتے ہیں جو امریکہ کی جملہ آبادی کا دو فیصد ہیں اور ان کا ووٹ کسی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اب تک مسلمانوں نے امریکی نظم و نسق میں اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔ فوج، پولیس اور کئی اہم عہدوں پر امریکی مسلمان برسرکار ہیں لیکن ٹرمپ  جس تیزی سے مخالف مسلم مہم چلا چکے ہیں ان کے انتخاب کے بعد اس میں مزید منفی تیزی آ سکتی ہے۔ صدارتی امیدواروں نے امریکی مسلمانوں اور ماباقی دنیا کے مسلمانوں کے سامنے دہشت گردی کی لکیر کھینچ دی ہے۔ مسلمانوں کو انتہاء پسند یا دہشت گردی کا چہرہ بنا کر پیش کرنے کا نتیجہ بھی بھیانک ہوسکتا ہے۔ اسی لئے امریکی مسلمانوں کے ذمہ دار گروپس کا کام ہیکہ وہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیکر نتائج کا رخ بدلنے کی کوشش کریں۔ اس آزمائشی مرحلہ میں ا مریکی مسلمانوں کو دشمن کی چالوں کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور زیادہ سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔ عالم اسلام نے اب تک صبروتحمل کا بہترین  مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے خلاف طاقتور لابی کی ناپاک سازشوں کے باوجود عالم اسلام کو کمزور بنانے میں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے اس لئے مشرق وسطیٰ کو خونریز جنگی کارروائیوں میں ڈھکیل دیا گیا ہے۔ امریکہ سے باہر کی دنیا کو بدامنی کی آگ میں جھونک کر ہر روز سینکڑوں انسانوں کو ہلاک کرنے والی فوجی طاقت کو جب اپنے ہی ملک میں شہریوں کی ہلاکتوں کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں تو موت کے درد کا احساس ہوتا ہے۔ جو امریکی صدر اپنے شہریوں کی موت پر آنسو بہاتا ہے اور دوسرے ملکوں کے عوام کی جانوںکی کوئی قدر نہیں کرتا ہے تو پھر اس ملک کیلئے برے دنوں کی خبر سے بے خبر بھی نہیں رہنا چاہئے۔ امریکہ کی الیکشن کی رات نوجوان نسل کیلئے جشن و تجسس کی رات ہوگی۔ اس شور میں مسلمانوں کے مسائل اور ان کے مستقبل کو دبانے کی کوشش کرنے والوں سے چوکس رہنا امریکی مسلمانوں کیلئے نہ صرف ضروری ہوگا بلکہ امریکہ سے باہر کی دنیا کے مسلمانوں کے تعلق سے دشمن پالیسیوں کو روکنے میں اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ اب سوال یہ ہیکہ امریکہ کا صدر کون ہوگا تو ہلاری کلنٹن کو ڈونالڈ ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے اور ہلاری کی پالیسیاں ہی انہیں یہ برتری برقرار رکھنے کا سہارا بنیں گی۔ ہلاری کو 272 اور ٹرمپ کو 204 کے فرق سے آگے بڑھتے دیکھا جارہا ہے۔
برطانیہ کی ویزا پالیسی اور ہندوستانی آئی ٹی معیشت
ڈالر کے مقابلے برطانوی پاونڈ کی قدر میں اضافہ اور یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی کے بعد حکومت برطانیہ کی خارجہ پالیسیوں میں سخت اقدامات کا پہلا شکار برطانوی ویزا کے حصول کے خواہاں افراد ہوں گے۔ امریکہ کے انتخابات سے عین قبل برطانیہ نے ویزا قواعد کا اعلان کیا ہے۔ یہ ویزا قواعد ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلس کو متاثر کریں گے اور اس سے ہندوستانی آئی ٹی شعبہ سے وابستہ افراد میں بے چینی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ ہندوستانی ماہرین کی قدر بیرونی ملک زیادہ ہوتی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلس کو سب سے زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ برطانیہ کے مقابل امریکہ کی مارکٹ ہی ہندوستانی آئی ٹی ماہرین کیلئے موزوں ترین سمجھی جاتی ہے۔ تاہم برطانیہ کی ویزا پالیسی کے اثرات پڑنے سے پہلے حکومت ہند کو ملک کے اندر آئی ٹی شعبہ کو ترقی دینے والے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامئے کے دورہ سے قبل مرکز کی مودی حکومت کو ایک سوالنامہ تیار کرلینا چاہئے تاکہ وزیراعظم برطانیہ کے دورہ ہند کے موقع پر ہندوستانیوں کو برطانیہ میں درپیش مسائل کی جانب توجہ دی جاسکے۔ ایک اور اہم غور طلب سوال یہ ہیکہ جب سے بی جے پی حکومت آئی ہے ملک میں ہر طرف شاندار مواقع کی بات کی جارہی ہے۔ میک ان انڈیا کا نعرہ واقعی روزگار کے قابل عمل ہوا ہے تو پھر ہندوستان میں ہی نوجوانوں کو روزگار ملے گا لیکن افسوسناک حقیقت تو یہ ہیکہ مودی حکومت ہندوستانی بیروزگار نوجوانوں کے تمام مسائل حل کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ صرف ان کا رپوریٹ گھرانوں کی مارکٹ کو فروغ حاصل ہورہا ہے جو اچھے دن کی مصنوعی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ہندوستانی پروفیشنلس کل تک برطانیہ کو ترجیح دیتے رہے تھے اب انہیں برطانوی ویزا پالیسی کا شکار ہوجانے کے بعد اپنے ہی ملک میں کام کرنے کا ارادہ کرلیتے ہیں تو ان کیلئے بہتر مواقع اور سہولتیں فراہم کرنا مودی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT