Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / امریکی انتخابات میں روسی مداخلت پریشان کن

امریکی انتخابات میں روسی مداخلت پریشان کن

پاکستان پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہونے کا الزام ‘ افغانستان مایوسی سے دوچار‘ انڈیا ٹوڈے چوٹی کانفرنس سے ہیلاری کلنٹن کا خطاب

ممبئی ۔ 11مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں 2016ء کے صدارتی انتخابات کو ’’ پہلے ریالیٹی ٹی وی انتخابات ‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلاری کلنٹن نے الزام عائد کیا کہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ مداخلت انتہائی پریشان کن تھی ۔ ہیلاری کلنٹن صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار تھیں ‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے صدر کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کو منتخب کیا ‘ حالانکہ وہ اس کے مستحق نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات میں روسی دخل اندازی کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور یہ دخل اندازی انتہائی پریشان کن تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہر جگہ جمہوریت کیلئے ایک واضح خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صرف مجھے ہی یا میرے انتخابی امکانات کو بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ اس دخل اندازی کا مقصد ہمارے معاشرہ میں انتشار پیدا کرنے کے شعلے بھڑکانا تھا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر روس ولادیمیر پوٹن عیسائیت کے علمبردار قائد نہیں ہیں ۔ وہ انڈیا ٹوڈے چوٹی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں کلیدی خطبہ دے رہی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بے اعتمادی اور انتشار پیدا ہوگیا ہے جو صحافت ‘ عدلیہ ‘ امریکی کانگریس ‘ سیاست کے بارے میں ہے جو جمہوریت کے بنیادی ستون ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور امریکی عوام اپنی جمہوری اقدار کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر مزاحمت کررہے ہیں ۔ عوام جمہوریت کی خاطر متحد ہورہے ہیں اور اس کے دفاع کیلئے اُٹھ کر کھڑے ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاریکین وطن کی مخالفت کا جذبہ ہر طرف پھیل گیا ہے جس کی وجہ ٹرمپ کی لفاظی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ امریکہ واحد ملک تھا جو اب پیرس معاہدہ برائے تبدیلی ماحولیات کا فریق نہیں ہے ‘ میں ہندوستانی قیادت کی مشکور ہوں کہ انہوں نے دیگر ممالک کو بھی اس کی فہرست میں شامل کیا اور تبدیلی ماحولیات سے درپیش خطرے کو تسلیم کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ڈونالڈ ٹرمپ صدر امریکہ بننے کے مستحق تھے ‘ انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ انہوں نے ایک ٹی وی ریالیٹی انتخابی مہم چلائی ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو انتہائی برہمی کے عالم میں غلط باتیں کہتا ہے ‘ جواب دہی سے بچ جاتا ہے ۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا اور کہا کہ افغانستان مایوسی کے عالم سے گذر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مختلف چیزوں کو آزما چکے ہیں ۔ ہم دہشت گردوںکو نکال باہر کرنے کی تائید کرتے ہیں ‘ تاہم اس مسئلہ کا حل آسان نہیں ہے ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق صدر امریکہ بارک اوباما کو انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف دھاوا کیا جائے ‘ اس سوال پر کہ کیا وہ دوبارہ صدارتی مقابلہ میں حصہ لیں گی ‘ انہوں نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ انہیں خوشی ہوگی اگر صدارتی انتخابات 2020ء میں ہوں تاکہ وہ دوبارہ درست راستہ پر آسکیں ۔

TOPPOPULARRECENT