Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے مہم چلانے پوٹین کی ہدایت

امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے مہم چلانے پوٹین کی ہدایت

Traditional Russian wooden nesting dolls, Matryoshka dolls, depicting Russia's President Vladimir Putin, US Democratic presidential nominee Hillary Clinton and US Republican presidential nominee Donald Trump are seen on sale at a gift shop in central Moscow on November 8, 2016. A nervous world turned its gaze to America's 200 million-strong electorate November 8, 2016 as it chooses whether to send the first female president or a populist property tycoon to the White House. / AFP PHOTO / Kirill KUDRYAVTSEV

ٹرمپ کی تائید اور حریف ہلاری کلنٹن کو بدنام کیا گیا ، جمہوری نظام پر عوام کا بھروسہ ختم کرنا مقصد : رپورٹ

واشنگٹن ۔7جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج صدر روس ولادمیر پوٹین پر انتخابات پر اثرانداز ہونے کی مہم چلانے احکامات جاری کرنے کا الزام عائد کیا تاکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤز کیلئے انتخاب میں مدد ملے اور ان کی حریف ہلاری کلنٹن کو بدنام کیا جائے تاکہ ان کے منتخب ہونے کا امکان اور امریکی جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوجائے ۔ منتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تاہم ان الزامات کی فوری تردید کی اور کہاکہ پوٹین کی پشت پناہی سے 18نومبر کے صدارتی انتخابی نتیجہ پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ ڈائرکٹر نیشنل انٹلیجنس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارا یہ تجزیہ رہا ہیکہ صدر روس ولادمیر پوٹین نے 2016ء میں انتخابی مہم پر اثرانداز ہونے کا حکم دیا اور امریکی صدارتی انتخابات ان کا نشانہ تھے ۔ 31 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا کہ روس کا مقصد امریکی جمہوری نظام پر عوام کابھروسہ ختم کرنا ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کو بدنام اور ریپبلکن ٹرمپ کے مقابلے ان کی کامیابی کے تمام تر امکانات اور صدر بننے کے مواقع کو نقصان پہنچانا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق پوٹین اور روسی حکومت نے منتخبہ صدر ٹرمپ کو واضح طورپر فوقیت دی اور ہمارا یہ تجزیہ بالکلیہ درست ہے ۔ یہ رپورٹ جمعرات کو سبکدوش ہورہے صدر بارک اوباما کو پیش کی گئی ۔ اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ای میل سسٹم کو روس کی جانب سے ہیک کئے جانے کی جامع تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔

انٹلیجنس عہدیداروں کی ایک ٹیم نے نیویارک میں ٹرمپ اور منتخبہ نائب صدر مائیک ہینس کو رپورٹ کے بارے میں واقف کرایا ۔ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ روس ، چین ، دیگر ممالک بیرونی گروپس اور عوام مسلسل ہمارے سرکاری اداروں ، تجارت اور تنظیموں بشمول ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے سائبر انفراسٹرکچر کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انتخابی نتائج پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ساتھ بھی کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ۔ انھوں نے کہاکہ ریپلکن نیشنل کمیٹی (آر این سی ) کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایک طاقتور نظام کی وجہ سے ہیکرس کامیاب نہ ہوسکے ۔ ٹرمپ نے کہاکہ وہ ایک ٹیم کا تقرر کریں گے جو ان کا جائزہ لینے کے بعد اندرون 90 یوم رپورٹ پیش کرے گی کہ امریکہ کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے اور یہ عوام کی بحث کا موضوع نہیں ہونا چاہئے جس سے انھیں فائدہ ہوگا جو امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہاکہ دو ہفتے بعد وہ صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے اور امریکہ کا تحفظ و سلامتی ان کی اولین ترجیح ہوگی ۔ انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ انتخابی نتائج ہیکنگ سے متاثر نہیں ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT